یہ کیسا رشتہ ہے ؟




 بشیرالدین بٹ

نصراللہ شجیع بھائی سے کبھی بھی ملاقات نہیں ہوئی ، میرا ان سے دور کو کوئی خونی رشتہ نہ تھا مگر وہ باقی ساتھیوں کی طرح میرے بھی دل کی دھڑکن تھے ، اپنی تحریک کے ایک ایک دلاور سالار سے جزباتیت کی حد تک لگاؤ ہی اسلامی تحریک کے کارکنوں کا سرمایہِ عظیم ہے شائد ! ہمیشہ ہی کراچی کے پروگراموں کی کوریج میں نمایاں وجاہت کے ساتھ نوجوانوں کی توجہ کا مرکز رہنے والے شجیع بھائی ۔۔
شجیع بھائی نے کمال کر دیا ، شجیع بھائی کے پُرجوش نعرے ، شجیع بھائی اسٹیج کی جان ، شجیع بھائی یہ ، شجیع بھائی وہاں ، شجیع بھائی یہاں ۔۔۔
میرے اللہ تو ہی ہمارے دلوں کے درد کو جانتا ہے ہم تو خوں کے رشتے بچھڑ جانے پر اتنا نڈھال نہیں ہوئے کبھی ، مگر تحریک کے کسی ایک ساتھی کی جدائی ہماری کمر توڑ کر رکھ دیتی ہے۔ ہمارے گھروں میں سوگ کی کیفیّت طاری ہو جاتی ہے۔
میرے اللہ بیشک تو مالک ہے ، ہماری جانیں امانت ہیں ، اس راستے پر چلنے والا ایک ایک ڈاکٹر نذیر ، عبدالمالک ، نواز خان ، مظفر نعیم ، واصف عزیز , ڈاکٹر پرویز محمود ، عبدالقادر ملا اور شجیع بھائی پہلے ہی دن جان کا سودا جنت کے بدلے کر کے شہادتِ حق جیسے عظیم مشن کے ساتھ دیوانہ وار وابستگی کا اظہار کر چُکا ہوتا ہے ۔
میرے اللہ اگر شجیع بھائی کو ہم تک بخیریت لوٹانا چاہے تو تُو قادرِ مطلق ہے ، ورنہ ہم اپنے بھائی اپنے قائد کی شہادت کے گواہ بن کر تیرے فیصلے پر راضی ہیں ۔ کہ تیرے نبی ﷺ نے ہمیں بتایا کہ جو پانی میں ڈوبا وہ شہید ہے ۔ اور پھر شجیع بھائی جیسا دلاور تو ہر کسی ماں کی کوکھ سے جنّم نہیں لیا کرتا ۔
أُولَـٰئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ – الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ۔
یہی لوگ وہ وارث ہیں ۔ جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ سورہ المومنوں 10-11

اپنا تبصرہ بھیجیں