سال نو کا کاؤنٹ ڈاؤن – ڈاکٹر سارہ شاہ




اپریل کے مہینے سے یہاں سعودیہ عرب میں مکمل لاک ڈاون شروع ہوا ۔۔فلائٹس بند۔زمینی راستے بند۔کاروبار،دفاتر،بازار ،اسکول سب بند ایک نئی ہی دنیا سامنے تھی۔۔وبا پھیلنے کے خوف کے ساتھ سوشل ڈسٹنسنگ کو اپنانے کا محاذ کھڑا تھا جو شاید نیا لیکن جذباتی اور ذہنی طور پہ منفی طور سے اثر انداز ہو رہا تھا ۔

گلی میں بچوں نے کھیلنا بند ۔۔پڑوس میں آنا جانا بند ،جو اکثر مہمان داری رہتی وہ بھی ختم،ہر دن ہی ویک اینڈ لگتاسب سے زیادہ دل اس وقت مضطرب ہوتا جب مسجد سے آذان میں موذن آخر میں یہ کہتےصلو فی بیوتکماس سارے منظر نامہ میں جو سوچ بار بار دماغ میں گھومتی وہ یہ کہ اللہ نے ہمارے گھروں کو عافیت کا سامان بنایا ،اپنے گھروں کو اس ایمرجنسی کی کیفیت میں سکون کا ٹھکانہ بنایا۔جسے ہم اس وقت میں سب سے زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں۔پوری دنیا میں کوئی محفوظ جگہ نہیں سوائے اپنے گھر کے۔۔۔ایسے میں ان تمام مسلمان بھائی بہنوں کا دل میں دکھ محسوس ہوا جو ان تمام آسانیوں سے محروم ہیں چاھے وہ کشمیر ہو،شام ہو یا فلسطین

اپنا گھر ۔۔سر پہ چھت۔عافیت لگی۔۔دنیا سے کٹ کر ۔۔اپنے پیاروں کا ساتھ اور دید عافیت لگی۔۔علاج کی عدم دستیابی میں احتیاط میں ،اللہ کے رزق،میں عافیت نصیب ہوئی۔۔یہ اور اس،طرح کے بہت سے عافیت کے استعارے ۔۔ان کا صحیح ادراک اور شعور پایا اس سال میںنبی مہربان محمد صلی اللہ کی اس دعا کو شدت سے دل سے قریب محسوس کیا اور اللہ سے طلب بھی رہی ۔حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:

اے اللہ میں آپ سے پناہ چاھتا ہوں نعمت کے زوال سے اور عافیت کے چھن جانے سے اور اچانک مصیبت کے آجانے سے اور آپ کی ہر ناراضگی سے۔(رواہ مسلم، مشکوة٢١٧) ………. آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں