الوداع سال 2020 – ڈاکٹر سارہ شاہ




سال 2020 کیسے وقوع پذیر ہوا خود انسانیت بھی اس پہ حیران اور ششدر ہے۔ یہ سال جو انسانی تاریخ میں کرونا پینڈیمک کے عنوان اور تعارف جانا جائے گا ،تاریخ انسانی میں ایسی مثال ڈھونڈنے سے نہیں ملے گی۔

ویسے تو ہمیں انسانی تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کرہ ارض کے مختلف حصوں میں مختلف صدیاں وبائوں سے مشروط رہی اور لاکھوں کی تعداد میں انسان ،قومیں لقمہ اجل بنیں لیکن
سال 2020 کی کرونا پینڈیمک یہ خصوصیت لئے ہوئے اس دنیا پہ قابض ہوا کہ ٹیکنالوجی اور سا ئنس کے بہترین عروج کے باوجود انسانیت اپنی بقا کے لئے بے دست و پا بے بس کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف اس وبا سے متعلق علاج،احتیاط، بچاو،پھیلاو سے متعلق صحیح اور غلط مفروضے ہمارے سامنے روزانہ کی بنیاد پہ کھل رہے ہیں۔

دوسری طرف پوری انسانیت مجموعی طور پہ معاشی ،سماجی،طبعی اور ،ذہنی اور جذباتی بحران کا شکار نظر آرہی ہے۔بڑے بڑے بین الاقوامی اور ملکی سطی کے کاروبار تنزلی کا شکار ہوئے وہاں ایک دھاڑی دار روزگار تلاش کرنے والے کے لئے شدید آزمائش کا دور گزرا جب لاک ڈاون کے باعث سفید پوش اور ریڑھی والے افراد کو دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ترین ہوگیا۔سوشل ڈسٹنسنگ کے سبب ایک گھر کے افراد ایک گھر میں رہتے ہوئے دور ہیں۔

احتیاط کے پیش نظر مصافحہ کرنے بغل گیر ہونے سے گریزاں ہیں ایک ہی وقت میں بازار، تعلیمی ادارے،دفاتر حتی کہ یہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ مساجد بھی بند ہوں گی جو ہمارے لئے سب سے بڑھ کر رنج اور غم کا باعث ہے ۔سب ایسا لگتا ہے جیسے پوری دنیا کو تالا لگ گیا ہے۔کتنے ہی گھرانوں اور خاندانوں نے اپنے پیاروں کو بے بسی اور بے چارگی کے عالم میں کھویا۔

ہر گلی ،محلے،علاقوں، بستیوں،شہروں سے اموات کی بڑھتے ہوئے اعدادوشمار روزمرہ کی بنیاد پہ سننا مزید ذہنی انتشار کا سبب بن رہا ہے،شاید ہمیں لگتا ہے دنیا اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے۔۔اس وقت ہم انسان سوچ رہے کہ کیا پہلے بھی کرہ ارض پہ کسی سال اتنی اموات ہوئی ۔کئی لوگ اس سال کو غم کے سال یعنی عام الحزن کا نام دے رہے ہیں۔۔مبصرین کے مطابق دنیا معاشی اور طبعی بحران سے بہر صورت نکل ہی آئے گی لیکن اس ایک سال میں افراد ذہنی اور جذباتی طور پہ جس کرب میں مبتلا ہے وہ اپنا دیر پا اثرچھوڑے گی۔۔

لیکن تصویر کا صرف ایک رخ نہیں ہوتا اس سخت وقت میں بھی اللہ نے ہمارے دماغوں میں تصویر کا دوسرا رخ دیکھنے کی صلاحیت رکھی ہے اس سے بڑھ کر انسان کو ایسی بہتری ساخت پہ پیدا کیا کہ وہ ہر ماحول میں ڈھل جاتا ہے جسے ہم ایڈجسٹ ایبل اور ایڈابٹ ایبل کہیں گے اور کرونا پینڈیمک کے محاز سے پوری دنیا کا لڑنا اس کی بہترین مثال ہے۔ڈژاسٹر مینجمنٹ کے صحیح مفہوم سے پوری دنیا ہما وقت روشناس ہوئی۔۔

فاصلوں نے ڈیجیٹل ذرائع کو مزید متعارف کرایا جس کے ذریعے “ورک فرام ہوم”اور اسٹڈی فرام ہوم”اصطلاحات نے جنم لیا۔کام کرنے کے لئے طبعی اور جسمانی طور پہ ایک جگہ موجود ہونا ضروری نہیں ٹھہرا ۔یہ معاملہ تعلیمی اداروں کا بھی رہا چونکہ ان لائن پڑھائی کا کانسیپٹ بالکل نیا تھا،اس لئے والدین کو بچوں کے ساتھ ساتھ سیکھنے میں دشواری کا سامنا رہا۔ یہ ڈیجیٹل طریقہ کار افراد اور اداروں کے لئے کتنے زیادہ مفید ثابت ہوں گی یہ بھی آنے والا وقت بتائے گا۔سب سے اہم بات یہ کہ اس دور میں جہاں ہر چیز ملاوٹ شدہ اور نقلی معلوم ہوتی ہے۔

انسان اپنی اصل کی طرف پلٹا،اپنی صحت جو زمانوں سے نظر انداز ہو رہی تھی اس صحت کی طرف توجہ دی۔خالص اور ارگینک کو ترجیح میں رکھ کر قوت مدافعت بڑھانے پہ زور رہا۔۔جب طب کے جدید طریقے بے فائدہ رہے وہاں احتیاطی تدابیر نے انسانوں کی جانیں بچائی ۔۔نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی اور جذباتی صحت کی طرف بھی رجوع کیا ،اس حوالے سے بھی آگہی پھیلی کی جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذہنی آسودگی بھی معنی رکھتی ہے۔۔صحت افزاء موحول جو شاید مشینی زندگی میں ناپید ہو گیا تھا،جو لوگوں کے لئے نا ممکنات میں سے تھا وہ ماحول میسر آیا۔۔

گیجٹس کی بہتات نے جو قربت ختم کی وہ وقت ساتھ گزارنے کا وقت میسر آیا۔ساتھ ہی ساتھ ان لائن کا بزنس کا رجحان شروع وقت کی اہم ضرورت اور خوش آئند ٹھہرا۔مسجدوں کے دروازے بند ہونے سے ہم سب نے اللہ کے گھروں سے جو اسلامی شعائر میں شامل ہیں اپنی محبت ،عقیدت اور ٹرپ کو محسوس کیا کہ یہ دین ہماری بقا کی ضمانت ہے۔۔ہم نے اپنے گھروں کو مساجد کا نمونہ بنایا۔دنیا کی بے ثباتی کے صحیح معنی سمجھے جسے ہم اس مادیت پرستی کے دور میں بھولے بیٹھے تھے یہ مشکل وقت رب سے قربت اور رجوع کا ذریعہ بنا ۔نہ صرف یہ بلکہ ۔لاک ڈاون اور ائیسولیشن کے وقت میں خدمت خلق کی بہت سی مثال ہمیں ملتی ہے ۔

جہاں اللہ تعالی نے لوگوں کے دلوں کو اتنا غنی اور وسعت دی کہ اپنے اور پرائے کا فرق نہیں رہا۔۔یہ اور بہت سارے پہلو۔۔اور ان سب میں سب سے بڑھ کر سب سے اہم بات یہ کہ انسانیت کے مسیحاوں نے مسیحائی کا واقعی حق ادا کیا،پوری دنیا میں ایثار و قربانی کا ایسا منظر پیش کیا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔اس محاذ پہ طب کے شعبہ سے رکھنے والے تمام ہی افراد نے صف اول کے ندر اور دلیر مجاہدوں کئ طرح کرونا کے خلاف محاذ پہ اپنی جانوں کی پروہ کئے بغیر ثابت قدمی سے خدمت خلق کے لئے کوشاں رہے ،جن کی خدمات واقعی خراج تحسین پیش کئے جانے کے قابل ہیں اور یہ طے پایا کہ ہر ملک،ہر شہر، ہر بستی میں طب کی حوالے سے نظام کو ہر دور میں مضبوط بنانے کی ضروت ہے۔

حکومتی سطح پہ طب اور صحت کے اداروں کو فروغ دینے کے اقدامات ضرور ہی ہونے چاھئے۔ یہ وقت اور حالات نے ثابت کیا کہ جہاں امن و سلامتی اور بقا کے لئے حفاظتی ادارے ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہیں وہیں صحت اور طب کے اداروں کو مضبوط اور مستحکم کرنے کی کس حد تک ضرورت ہے۔

سال 2020 کے اختتام پہ جہاں ہم سب اس وبا کے ختم ہونے کے انتظار میں ہیں اور سال نو کے حوالے سے امید رکھتے کہ یہ ہمارے لئے آسانیوں اور عافیت کا سال ہو گا۔ اس سال کے اختتام پہ اللہ تعالی کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہوئے یہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ رب العزت اس کرہ ارض کو انسانیت کے عافیت کا گہوارہ بنادے آمین ۔اور نئی امید کے ساتھ یہ عہد باندھتے ہیں کہ جو مثبت تبدیلیاں ہم اپنی اور اپنے پیاروں کے زندگیوں میں لانے کی کوشش میں تھے مزید ان کوششوں سے اپنے اور اپنے پیاروں کی زندگیوں کو خوشگوار بنائیں گے ان شاء اللہ ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں