حبیب نے مجھے حوصلہ دیا: انوار الحق مغل




حبیب نور محمدوف عرف شاہین تیس سالہ روسی مسلمان ہے جس نے ایک ایسے معاشرے میں آنکھ کھولی جہاں نفسانی خواہشات کا حصول سوچ سے بھی زیادہ آسان ہے، جہاں شراب ایک مشروب اور جنسی تعلقات فیشن سمجھے جاتے ہیں، جہاں پر اسلامی تعلیمات پر کاربند رہنا اور اپنے ایمان کی حفاظت کرنا ناممکن نہ سہی مشکل ضرور ہے اس مادر پدر آزاد معاشرے میں بھی تیس سالہ یہ نوجوان اپنے رب کو نہ بھولا، اپنے مسلمان ہونے پر نہ شرمایا بلکہ کھل کر اپنے مذہب اور عقیدے کا اظہار کرتا دکھائی دیا۔ حبیب جنگجوؤں کی مشکل ترین کھیل مارشل آرٹ کا کھلاڑی ہے جس کے مقابلے کے دوران نہ منہ پر کوئی حفاظتی ہیلمنٹ ہوتا ہے نہ جسم کے کسی دوسرے حصے ہر پر کوئی رکاوٹ، لڑائی کے دوران چاہے ڈانٹ ٹوٹ جائیں یا ناک یا پھر کوئی ہڈی پسلی ٹوٹ جائے تو بھی کوئی باز پرس نہیں کی جاتی، حبیب کو اس خطرناک کھیل کی تیاری بچپن سے ہی والد کے ہاتھوں شروع ہوچکی تھی، اس کے والد کا نام عبدالمنان ہے اور وہ روسی فوج سے ریٹائرڈ ہیں اور اس کے علاوہ وہ جودو کراٹے میں بھی ماہر سمجھے جاتے ہیں انہوں نے حبیب کو بچپن سے ہی لڑائی کے داؤ پیچ سکھانا شروع کر دیئے تھے، وہ حبیب کو ریچھ سے لڑوا کر سخت سے سخت مقابلے کی ہمت پیدا کرتے رہے، اسی کا اثر تھا کہ جب حبیب نے لڑکپن کی دہلیز پر قدم رکھا تو وہ ایک مضبوط جسم کے ساتھ لڑنے میں کافی حد تک ماہر ہو چکا تھا۔
والد کی محنت نے حبیب کو اس سفر کے آغاز سے ہی چار چاند لگا دیئے، وہ پروفیشنل میدان میں اترتے ہی دھوم مچانے لگا، 2008 میں پہلی مرتبہ مکس مارشل آرٹ (ایم ایم اے) کے مقابلے میں شریک ہوا تو اس نے چاروں مقابلے ہی جیت لیے، جس کے بعد تو اس کی دھاک بیٹھ گئی، حبیب نے اسی پر بس نہ کیا بلکہ 2011 میں روس میں ہونے والے ایم ون گلوبل کے 16 مقابلوں میں سولہ کے سولہ مقابلے جیت کر ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا جس کے بعد اسے الٹیمیٹ فائٹنگ چیمپئن شپ (یو ایف سی) کیلئے منتخب کیا گیا جہاں حبیب نے سابقہ ترتیب کو برقرار رکھتے ہوئے چھ کے چھ مقابلے جیت لیے اور لائٹ ویٹ چیمپئن شپ حاصل کی، اس کے بعد تو حبیب کا نام گویا ایک خوف کا نشان بن چکا تھا، 2014 میں جب حبیب کا مقابلہ ایک مشہور فائٹر گلبرٹ ملینڈیز طے پایا تو اس نے مقابلہ کرنے سے انکار کر دیا۔حبیب کے ساتھ جہاں اس کے والدین کی دعائیں اور محنتیں شامل تھیں وہیں اس کے ساتھ خدا کی مدد بھی شامل تھی حبیب علامہ اقبال مرحوم کے اس کی زندہ مثال ہے کہ
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
جس کا مظاہرہ حبیب نے رواں ماہ کے شروع میں یو ایف سی کے تحت ہونے والے ایک اور عالمی مقابلے کے دوران کیا، 7 اکتوبر 2018 تاریخ کا وہ روشن دن تھا جب امریکہ میں لڑائی کے مقابلے کے دوران حبیب نے یہودی جنگجو کنور ایم سی گریگر کا غرور خاک میں ملا کر عالمی چیمپیئن شپ کا ایک اور بڑا اعزاز اپنے نام کر لیا، یہ مقابلہ شاید اس قدر دلچسپ اور توجہ کا مرکز نہ بنتا اگر یہودی فائیٹر مقابلے سے قبل دو موقعوں پر حبیب کو اس کے وطن، مذہب اور خاندان کے طعنے نہ دیتا، شاید خدا کو منظور تھا کہ وہ اپنے سچے ایماندار آدمی کو دنیا بھر میں نیک نامی اور عزت عطا کرے۔
مقابلے سے قبل ایک موقع پر جب وہ دونوں تعارفی تقریب میں مدعو تھے اور حبیب پہلے سے پروگرام میں موجود تھا کہ یہودی فائٹر نے آتے ہی اس پر زبان درازی شروع کر دی اور ہاتھوں کو لہرا لہرا کر حبیب کو دھمکانے لگا اس کے بعد حبیب کو مزید تنگ کرنے کیلئے اس نے شراب کا گلاس اس کی طرف بڑھایا تو حبیب نے لینے سے انکار کر دیا جس پر اس نے حبیب کو دین و ملت کے طعنے دئیے جن کو حبیب نے برداشت کیا اور بس اتنا کہا کہ وقت سب کچھ بتا دے گا، پھر عین مقابلے سے ایک دن پہلے جب دونوں کو شائقین کے سامنے بلایا گیا تو اس وقت بھی یہودی فائٹر غرور میں کے نشے میں چور تھا مگر جب حبیب سب کے سامنے پیش ہوا تو اس نے اپنا ہاتھ سینے پر رکھتے ہوئے نفی میں سر ہلایا اور پھر شہادت کی انگلی آسمان کی طرف بلند کر دی جیسے وہ کہہ رہا ہو کہ میں کچھ نہیں ہوں میرا اللہ سب کچھ ہے اور پھر اس نے مائیک پر اتنا کہا کہ “ان شاء الله کل دیکھیے گا” اور دونوں واپس چلے گئے۔
7 اکتوبر 2018 بروز ہفتہ مقابلے کا دن آن پہنچا تھا پہلے یہودی فائٹر اکھاڑے میں اترا اس کے بعد حبیب آیا، مقابلے کے پہلے حصے میں حبیب غالب رہا اور دوسرے میں یہودی فائٹر کے حق میں فیصلے ہوا جبکہ تیسرے حصے میں حبیب نے یہودی فائٹر کو گھونسوں کی وجہ سے ادھ موا کرنے کے بعد کمر کی جانب سے اس کے گلے کو دائیں بازو سے دبا دیا بس پھر کیا تھا کہ یہودی کو اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی اور ریفری کو بازو ہٹانے کی درخواست کر دی جس پر ریفری نے حبیب کو اس سے ہٹا لیا اور یوں حبیب اس مغرور کا سر کچلنے کے بعد چیمپئن شپ جیت گیا۔
اس مقابلے کو اس قدر مذہبی رنگ دیا گیا کہ جب یہودی فائٹر حبیب کی زد میں ہوتا تو شائقین میں موجود یہودی اپنے مخصوص طریقے سے آواز ملا کر کچھ گنگناتے لگتے جس سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ اس کو جوش دلایا جا رہا ہے ایسے ماحول میں ایک مسلمان کا دلیری سے لڑنا قابل رشک تھا اور جب حبیب کی جیت کا اعلان کیا گیا تو وہ فورا ہی سر بسجود ہوگیا اور جب اس کو اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے واسطے مائیک دیا گیا تو اس کی زبان پر سب سے پہلا لفظ الحمدللہ تھا، ان ایمان افروز مناظر کو دیکھ کر مجھے فخر محسوس ہونے لگا اور مجھے حوصلہ ملا جہاں مسلمانوں کی موجودگی پانچ فیصد بھی نہ ہو مگر وہاں پر ایک مسلمان خدا کا نام لینے سے نہ شرمائے مگر آج ہم کافروں کی دیکھا دیکھی خود کو حد سے زیادہ آزاد اور روشن خیال کہتے ہوئے پاک رب کا نام لینے اور اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے سے شرمائیں تو یقینا یہ ہماری بدبختی کے سوا کچھ نہیں اس لیے حبیب نے مجھے حوصلہ دیا ہے کہ کبھی اپنے ایمان کے اظہار اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے میں شرم نہ کرو بقول اقبال مرحوم کے
خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ
خودی ہے تیغ فساں لا الہ الا اللہ
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا اللہ
کیا ہے تو نے متاع غرور کا سودا
فریب سود و زیاں لا الہ الا اللہ
یہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ و پیوند
بتان وھم و گماں لا الہ الا اللہ
خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زناری
نہ ہے زماں نہ مکاں لا الہ الا اللہ
یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ
اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ

اپنا تبصرہ بھیجیں