تھیلی سیمیا کے شکار بچوں کی بڑھتی تعداد نے تشویش ناک شکل اختیار کر لی‘ صاحبزادہ محمد حلیم




پشاور: خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے فلاحی ادارے فرنٹیئر فائونڈیشن کے چیرمین صاحبزادہ محمد حلیم نے کہا ہے کہ تھیلی بیلٹ پر واقع ہونے سے خیبر پختونخوا میں تھیلی سیمیا کے شکار بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے تشویش ناک شکل اختیار کر لی ہے اور اس سے چالیس ہزار سے زائد خاندان ذہنی مشکلات سے دو چار ہیں فرنٹیئر فائونڈیشن کے تین مراکز پشاور کوہاٹ اور سوات کی پندرہ ٹیموں کی طرف سے خیبر پختونخوا کو تھیلی سیمیا سے پاک کرنے کے لئے صوبے بھر میں خصوصی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔
انہوں نے فرنٹیئر فائونڈیشن ویلفیئر ہسپتال پشاور کا دورہ کرنے والے پشاور یونیورسٹی کے طلبا و طالبات کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پشاور میں تھیلی سیمیا کے شکار غریب و نادار بچوں کے مفت علاج کے لئے دو ارب پچاس کروڑ روپے کی لاگت سے ایشیا کا سب سے بڑا تھیلی سیمیا و تھیلی سیمیا ریسرچ سنٹر بنانے کے لئے تیس کروڑ روپے کی زمین مفت فراہم کر دی گئی ہے‘ جبکہ اس کے لئے صوبائی حکومت وفاقی حکومت اورمخیر حضرات سے رابطوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں