ناقابل معافی جرم _ مسعود ابدالی




امریکی تاریخ کی پہلی مسلم خاتون رکنِ کانگریس محترمہ الحان عمر آجکل شدید دباو میں ہیں۔ بات بظاہر بہت معمولی سی ہے لیکن ‘ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی والا معاملہ ہے’۔
گزشتہ دنوں امریکی سیاست پر یہودی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا
Its all about the Benjamin Baby!!
امریکہ میں 100 ڈالر کے نوٹ پر سیاسی رہنما اور ریاست پنسلوانیہ کے سابق صدر (گورنر) بنجامن فرینکلن (Benjamin Franklin)کی تصویر ہوتی ہے اسی بنا پر its all about Benajminپیسے کے کمال کیلئے ایک امریکہ میں ایک ضرب المثل ہے۔ یعنی امریکی ایوانِ نمائندگان کی یہ جوانسال رکن کہنا چاہ رہی تھیں کہ امریکہ کے دولت مند یہودی ترغیب کاروں (Lobbyist) کے ذریعے اسرائیل کے حق میں بھاری رقوم خرچ کرتے ہیں جسکی وجہ یہاں اسرائیل کے اثرات بہت گہرے ہیں۔
اس بات پر حسبِ توقع ایک ہنگامہ برپا ہوگیا۔ کانگریس کی اسپیکر اور ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما نینسی پلوسی نے الحان عمر کے اس تبصرے کو صیہونی دشمن (anti-semetic) قراردیتے ہوئے الحان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ ہر جانب سے مذمت کا سلسلہ شروع ہوگیا اور بیچاری نے گھبرا کر ‘یہودی دوستوں’ سے معذرت کرلی اورکہا کہ’ مجھ سے الفاظ کے چناو میں غلطی ہوئی ہے جس پر میں یہودی احباب سے معذرت خواہ ہوں لیکن امریکی سیاست پر ترغیب کاروں کے اثرات کا انکار نہیں کیا جاسکتا’
الحان کی یہ معذرت فی الحال قابل قبول نہیں سمجھی گئی اور کل ایک جلسہِ عام سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے الحان کے ‘نفرت انگیر’ تبصرے پر معذرت کو مسترد کرتے ہوئے اسکے خلاف سخت تادیبی کاروائی کا مطالبہ کیا۔ کچھ قدامت پسند الحان عمر سے استعفےٰ کا مطالبہ کررہے۔ بظاہر نینسی پلوسی نے الحان کی معذرت قبول کرکے بات ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے لیکن اسپیکر پر شدید دباو ہے کہ الحان عمر کی مجلس قائمہ برائے خارجہ امور کی رکنیت ختم کردی جائے .
شہری حقوق کیلئے جدوجہد کرنے والے سیاہ فام مسلم رہنماوں کا خیال ہے کہ انتخابی سیاست کے ذریعے امریکہ میں حقیقی تبدیلی ممکن نہیں کہ کانگریس اور منتخب اداوں پر مخصوص طبقات کی گرفت بہت مضبوط ہے جنکی مرضی کے خلاف کچھ کرنا تو درکنار بولنا بھی سیاسی عاقبت کیلئے موت کا پیغام ہے۔یہ لوگ مارٹن لوتھڑ کنگ، مالکم ایکس اور شہری آزادیوں کیلئے دوسرے رہنماوں کی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہیں جنھوں نے ایوان میں جانے کے بجائے باہر سے دباو ڈال کر اپنے مطالبات منوائے۔الحان کی بے ضرر سے ٹویٹ پر اس طوفان سے ہمیں بھی یہ بات کسی حد تک درست نظر آرہی ہے۔ایسی رکنیت سے کیا فائدہ جب آدمی کھل کر اپنے دل کی بات بھی نہ کرسکے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں