انسانیت کو سب سے بڑا مذہب کہنے والوں کی حالت – سارہ رحیم




ہاں……! شاید کہا جا سکتا ہے کہ ہم بھی بے حس لوگوں کے طبقے میں شامل ہو گئے ہیں۔ ایک وقت تھا …… ہم بھی انسانیت کے بڑے بھاری بھر کم نعرے لگاتے تھے۔ مانتے تھے کہ ہر انسانی جان قیمتی ہر روح انمول ہے…… لیکن جب سالوں تک یہ دیکھتے رہے کہ کرہ ارض پر حکومت کرنے والی طاقتیں نا انصافی میں حد سے کہیں ذیادہ بڑھ گئی ہیں. تو ہم جیسے انسانی حقوق کے علمبرداروں نے بھی انسانوں کو مذہب اور بدلے کے ترازو میں تولنا شروع کر دیا۔
اب امریکہ کی سڑکوں پر رلتے شہریوں کو دیکھ کر عجیب سا سکون محسوس ہوتا ہے اور اندر ہی اندر ان شہریوں کی منافقت پر حیرانی بھی ہوتی ہے ۔ ان کالوں گوروں کے ہجوم کو بھی ایک اپنے شہری کی موت ہی لڑی۔ فلسطینی، عراقی، شامی، کشمیری اور افغانی تو شاید انسان ہی نہ تھے۔ بے قصور، معصوم مسلمان کٹتے مرتے راکھ بنتے رہتے ہیں مگر یہی مغربی عوام بے نیاز بنی رہتی ہیں۔ اس ایک کالے کی موت لاکھوں مسلمانوں کی لاشوں پر بھاری لگی ان کو۔۔۔۔۔ بھئی ایسی انسانیت ہماری سمجھ ست تو بالا تر ہے۔ پھر قانون قدرت یہی ہے۔ جب انسان ظالم کاہاتھ نہ پکڑیں تو اللہ اسے جھٹکا دیتا ہے۔ مانا ہم مسلمان اپنی ہی غلطیوں کو بھگت رہے ہیں۔ ہماری نا اتفاقی نے ہی ہمارے دشمنوں کو ہمارے گلے کاٹنے اور سینے چھلنی کرنے کا حوصلہ دیا ہےمگر عادل و قادر پروردگار ہر لمحہ ہر جگہ موجود ہے۔ اس نے تو دکھایا ہےاگر عقل کی نظر رکھنے والے یہ دیکھ لیں کہ لاکھوں مسلمانوں کو مارنے والےممالک کے اپنے بے حس لوگ ایک انسان کے قتل پر احتجاج کے نام پہ ذلیل ہو رہے ہیں ۔
اچھا ہےظالموں کے ہاں کرونا کے ساتھ ساتھ یہ بد امنی اور بڑھے یہ انتشار مزید پھیلے۔ یہ ہم سے اس لیئے نفرت کرتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ ہم ان سے اس لیئے نالاں ہیں کہ یہ ظالم ہیں اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ مسلمان ہونا جرم نہیں البتہ ظالم ہونا گناہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں