بحیثیت امت مسلمہ یہ ہماری زمہ داری بھی ہے – عائشہ صدیقہ




ہم کرونا وائرس کے مضمرات سے نکلنے نہ پائے تھے کہ رمضان المبارک کے اخیر میں طیارہ حادثے نے گویا پوری قوم کو ہلاڈالا……!!
تمام پاکستانیوں نے خواہ وہ اس سے متاثر نہ بھی ہوا ہو، اس نے بھی اسکو اپنا زاتی نقصان ہی سمجھا، اور دُکھے دل سے اپنے ہاتھ رب العالمین کے حضور اٹھا دئیے کہ اے رب! اگر تو ہم سے ناراض ہے تو ہمیں معاف فرما، جن کا جانی اور مالی نقصان ہوا انکا ازالہ فرمادے آمین..
یہ تو آسمانی آفات تھیں جن سے ہم گزرے مگر…… کیا کیا جائے ہمارے بےحیاء اور بے لگام میڈیا کا!! اس نے ہمارے لئے آفات در آفات کا ایک سلسلہ کھول رکھا ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا !! گھروں اور رشتوں کو توڑنے والی تراکیب پر مشتمل ڈرامے اور کہانیاں.. جن میں ذومعنی جملے، فحش پہناوے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں. بےحیائی اور بے غیرتی پر مشتمل اشتہارات…… جن میں لباس نام کی چیز برائے نام ہی رہ گئی ہے اور اگر ہے بھی تو اس ترکیب سے کہ ہوتے ہوئے بھی نا ہونے کا گماں!! جیسے آجکل کولا نیکسٹ نام کے ایک مشروب کا اشتہار.. اور اسی قبیل کے دوسرے اشتہار بھی….. یہ وباء اور غلاظت تو اس آسمانی وباء سے کہیں زیادہ خطرناک اور خوفناک ہے کہ جس سے بچ کر ہم گھروں میں تو چھپے بیٹھے ہیں، مگر اس سے بچ کر کہاں جائیں؟ نذر بن حارث کا جانشین……! جو ہمارے سٹنگ رومز اور بیڈ رومز میں موجود… جسکے ریموٹ پر ہماری نئی اور معصوم نسل کی انگلیاں.
موبائل کی صورت، انکی جیبوں میں موجود.. جس سے انکی تمامتر دلچسپیاں وابستہ ہیں ……. ضرورت ہے ایک ارتغرل جیسے مجاھد کی، جو تلوار لیکر اٹھے اور ان دجالی قوتوں کا قلع قمع کردے.. کیا ہماری قوم ایسے مجاہدوں سے خالی ہوچکی ہے؟؟ ہرگز نہیں.. الحمداللہ ہرگز نہیں.. ایسی نیک روحیں بڑی تعداد میں موجود ہیں جو اس صورتحال پر کڑھ بھی رہی ہیں اور اپنے اعمال و اقلام سے فریضہ جہاد میں مصروف کار بھی!!
ضرورت اس بات کی ہے کہ جس طرح یہ شیطانی یلغار پوری پلاننگ سے ہم پر مسلط کردی گئی ہے، ہم اللہ کا نام لیکر اسکا مقابلہ کریں.. اپنی نسلوں کو بچانے کیلئے ان دجالی قوتوں کے مقابل آکر معاشرے میں پاکیزہ اقدار کو واپس لانا ہوگا..انشاءاللہ

بحیثیت امت مسلمہ یہ ہماری زمہ داری بھی ہے – عائشہ صدیقہ” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں