دی اذانیں ہم نے مغرب کے کلیساؤں میں – ماہین خان




اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ مسلمانوں نے ہمیشہ فتوحات کے بعد مساجد کی تعمیر و ترقی کی روایت کو زندہ رکھا ہے ۔ ایسا ہی کچھ اس وقت بھی ہوا ، جب 1453ء میں قسطنطنیہ (موجودہ استبول) کو سلطان محمد فاتح کی بہترین حکمت عملی کے ساتھ فتح کیا گیا ۔ آیا صوفیہ ۔۔۔۔۔۔۔ جو عیسائی مذہب کا اور قسطنطیہ کا سب سے بڑا اور خوبصورت تعمیری چرچ تھا ، اسے سلطان کے فرمان کے مطابق اسلام کی شان و شوکت کو بلند کرنے کے لیے مسجد میں تبدیل کردیا گیا۔
اس گرجا کی دیواریں گھنٹیوں کی بجائے اذان کی پر جلال پکار سے گونجنے لگیں ۔ لیکن عیسائیوں کو یہ بات ہضم نہ ہوئی ۔ کہنے لگے کہ یہ کیسا مذہب ہے جہاں دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کو مسجدوں میں بدل دیا جاتا ہے ؟ لیکن کیا ہم وہ زمانہ بھول جائیں جب یہ صلیبی مسلمانوں کا خون بہایا کرتے تھے ۔ اس واقعہ کے بعد آیا صوفیہ کی نئی اسلامی تاریخ کا آغاز ہوا ۔۔۔۔۔۔۔ جس میں سلطان محمد فاتح نے اس کو مسجد کی طرز دینے کے لیے اس کی تزئین و آرائش کی طرف خاص توجہ دی ۔ اس میں تمام حضرت مریم و حضرت عیسیٰ کی تشبیہات اور مجسمات کو مٹاکر اسلامی فن خطاطی کے اعلیٰ شہکار لگوائے گئے ۔ ایسے میں یہ مسجد استبول کی باقی تمام مساجد حتیٰ کہ سلطان محمد فاتح کی اپنی تعمیرکردہ مسجد کے مقابلے میں نہایت وسیع و خوبصورت مسجد کے طور پر دیکھی جانے لگی ۔
عیسائیوں کو یہ بات چبھتی رہی اور 1931ء میں بلاآخر مقدمہ کردیا گیا ۔ جس کی بابت اس مسجد کو نمازیوں کے لیے بند کردیا گیا ۔ عوام کو اس سے کوسوں دور کردیا گیا ۔ 1935ء میں جب اتاترک پاشا نے یورپ کے ساتھ سو سالہ معاہدہ کر کے ترکی میں نام نہاد سیکولر ریاست قائم کی اور ترکوں کو یورپ نے اپنا غلام بنالیا تو یہ مسجد میوزیم میں تبدیل کردی گئی ۔ ایک لمبے عرصے کے لیے اس مسجد کے درودیواروں کو رب کعبہ کے نام سے محروم کرکے پیاسا چھوڑ دیا گیا۔
رجب طیب اردوان نے برسراقتدار آتے ہی اس مقدمہ کی مزید حقائق و چھان بین کے ساتھ دوبارہ سماعت شروع کروائی اور بلآخر اس امت کے سپہ سالار کی محنت اور لگن رنگ لے آئی ۔۔۔۔۔۔۔! گزشتہ دنوں میں طیب اردوان نے صدراتی حکم پر دستخط کرتے ہوئے آیا صوفیہ کو مسجد کی حیثیت میں تسلیم کرالیا ہے ۔ 86 سال بعد آیا صوفیہ کی دیواروں نے اذان کی آواز سنی ۔ ایسے میں انہیں وہ بہادر جرنیل کتنا یاد آیا ہوگا جس نے اپنے ہاتھوں سے سارے مجسمے مسمار کیے ہوں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جس کی فوج نے اپنے جسم کے کپڑوں سے رگڑ کر درودیوار سے وہ سارے نقش و تصاویر مٹائے ہوں گے ۔ ہر آن زباں پر کلمہ حق جاری ہوگا ۔
آہ ۔۔۔۔۔ آیا صوفیہ ۔۔۔۔۔۔آہ ! کتنی خوش نصیب مسجد ہوتم ۔۔۔۔ جس کے در پر آج کے مسلمان نسل کے لیڈر نے قدم رکھے ۔۔۔۔۔۔۔
پچھلے روز صدر طیب اردوان نے اپنی قوم سے خطاب کے درمیان جو کچھ کہا وہ ایک بہترین لیڈر و حکمران کی نشانی ہے ، کہتے ہیں:
“ترکی میں مختلف مذاہب کے لوگ بستے ہیں ۔ اس وقت دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے لئے 435 چرچ و عبادت حانے موجود ہیں ۔ ترکی اس مذہبی تنوع کو اپنی قوت سمجھتا ہے ۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرتے وقت مشترکہ انسانی ثقافتی ورثے کا خیال رکھا جائے گا مگر اسے میوزیم بنائے رکھنے کا اصرار ایسا ہے جیسے کوئی ویٹیکن کو میوزیم بنانے کا مطالبہ کرے ۔ آیا صوفیہ کا پھر سے مسجد میں تبدیل ہونا مسجد اقصیٰ کی آذادی کا اشارہ ہے ۔ مسلمان ایک دفعہ پھر سے فتح کے راستے پر چلیں گے ۔ آیا صوفیہ 24 جولائی کو نماز جمعہ کے ساتھ بطور مجسد کھلے گی ۔ داخلہ ٹکٹ نہیں ہوگا اور یہ مسجد مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کے لیے کھلی رہے گی ۔ ” انشاللہ عزیز
ایسی صورتحال میں جب امت مسلمہ پر ایک کڑا وقت گزررہا ہے ، ایک طرف کشمیر و فلسطین اور یہودی سازشین مسلمانوں کے خلاف برسرپیکار ہیں ۔۔۔۔۔۔ تو ایسے میں یہ خبر امت مسلمہ کے لیے ایک بہترین خوشخبری ہے اور حقیقت میں مسجد اقصیٰ کی آذادی کی طرف پہلا قدم ہے ۔ اس رحیم و کریم رب سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اس مشکل و کٹھن وقت میں ہمارے ساتھ رہے اور مسلمانون کو ایسے جری مرد مومن حاکم کے زیر سایہ رکھے ۔آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں