اردوان کا اسرائیل سے تعلق صرف فلسطین کےلئے ہے! – زبیر منصوری




وہ معتبر راوی وہیں موجود تھا !
اس نے خود اپنے کانوں سے سنا !

جب صومالیہ کے ایک طالبعلم نے ، اردوان سے سب کے سامنے ایک کانفرنس میں پوچھا کہ آپ اسرائیل سے تعلقات کیوں رکھے ہوئے ہیں ؟ تو اردوان اپنے طاقتور لہجے میں بولا …….. میرے بس میں ہو تو آج ختم کر دوں ….! مگر مجھے بتاو کہ فلسطین کے کمزور بزرگوں یتیم بچوں اور بیوہ بہنوں کو کس کے سہارے چھوڑ دوں ؟ کوئی اور راستہ ہے ان تک پہنچنے اور مدد کرنے کا ؟ واللہ …….. اسرائیل سے تعلقات بحال رکھنے میں سب سے بڑی مجبوری یہ ہے کہ اس طرح سے ہم ہر بار ہرڈیل ہر معاملہ میں مظلوم فلسطینیوں کے لئے کچھ رعایت کوئی مدد ، کوئی فریڈم فلوٹیلا ، کوئی امداد ، کوئی کرونا پیکیج کا راستہ بناتے رہیں .
کیا یہ تعلقات پہلی بار اردوان نے بنائے ہیں ؟ کیا اپنی جرات ، منصفانہ پالیسیوں سے کروڑوں اربوں کا نقصان برداشت کر لینے والا بس اسرائیل سے ہی سب کما رہا ہو گا؟

سنگ دل خامیاں ڈھونڈنے والوں…..! انسان کا پورا مجموعی عمل اس کے بارے میں صحیح رائے بنانے کا ذریعہ بننا چاہیے . ایک شخص وقت کے سارے طاغوتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر رہا ہے . پنجہ آزمائی کر رہا ہے ، برما کے لئے آنسو بہاتا ہے ، شام کے مہاجروں کو بدترین معاشی حالات میں سینے سے لگا کر رکھے ہوئے ہے . روس و امریکا سب سے لڑ کر فوجی کاروائی کرکے ان کے لئے محفوظ بفرزون بنا رہا ہے . امت کی بات کرتا ہے اور تو سب چھوڑو ڈرامہ اور فلم کے محاذ پر ہالی وڈ کو شکست دے رہا ہے …..! اپنی قوم کو تیزی سے خوشحالی کی طرف لا رہا ہے . نوجوانوں کو حفظ پرعمرہ کا تحفہ دے رہا ہے. اگلی نسل کو مسجدوں سے جوڑ رہا ہے . چومکھی لڑائی لڑ رہا ہے . پرسیپشن منیجمنٹ کرنا جانتا ہے …… ایسے حالات میں کہ جب اس کے اپنے ملک کے تنگ ذہن اور انا کا شکار اسلام پسند اس کی ضد میں خدا بیزاروں کے ساتھ جا ملتے ہیں ، وہ ایک جملہ تک ان کے خلاف نہیں کہتا . آیا صوفیا کو لایا اب مسجد اقصی پر اس کی نظریں ہیں ۔۔۔

آخرکون لوگ ہو تم؟ اسے انسان سمجھ کر اس کی خامیوں کو نظر انداز کرنے کو تیار نہیں ……. مسئلہ صرف یہ ہے کہ اس کے مخالفوں میں کچھ عملی حالات سے بے بہرہ خوف خدا سے خالی خالی خولی خوبصورت نعروں کا شکار لوگ ہین کچھ نظریاتی مخالف کچھ احمق کاپی پیسٹ والے ۔۔۔ مگر خیر جو شخص بیس برس سے حکمت و دانائی سے اپنے دشمن سارے قلعہ مسمار اور سارے مورچے زمین بوس کر چکا ہے وہ ان شااللہ تمہاری بولتی بھی بند کر دے گا . اردوان تم اپنی تمام تر غلطیوں خامیوں کے باوجود ہمارے ہو ہمیں تم سے محبت ہے اس لئے نہیں کہ تم فرشتہ ہو اس لئے کہ تمہیں ہمارے رب اور رسول سے محبت ہے۔۔۔!

(2015ء میں ان کے ورلڈ اکنامک فورم پر جا کر ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ڈھاڑنا اور صدر کے منہ پر اسرائیل کو قاتل اور ظالم کہنا ….. بھلا کس کی جرات ہو سکتی ہے ؟ جن کے مفادات ہوتے ہیں وہ بھیگی بلی بن کر ان فورمز پر بیٹھتے ہیں.)

اپنا تبصرہ بھیجیں