قافلہ والے چلے جاتے ہیں آگے آگے – صبا حسن




حج کا رکن اعظم ! وقوف عرفات …… کتنے ہی لوگ ہیں جو آج تڑپ رہے ہیں ۔ لبیک کی صدا بلند کرنے کے لئے ۔ سفر حج کی تیاری مکمل ۔ نام بھی فہرست میں موجود ، وسائل بھی ۔ لیکن
” بڑے کرم کے ہیں یہ فیصلے بڑے نصیب کی یہ بات ہے ۔”
حج ایسی عبادت جو تمام عبادات کا مجموعہ ہے۔ اپنے رب سے قریب تر کرنے والی عبادت ہے۔ جو رب کا ہوگیا …….. رب اس کا ہوگیا ۔ رکن اعظم میدان عرفات کا خطبہ حج ہی اصل حج کی روح ہے ۔ جس نے اس کو پالیا ۔ اس کا حج اللہ کے دربار میں مقبول و قبول بن گیا ۔
آج عالم انسانیت زوال پذیر ہے۔ سسک و تڑپ رہی ہے۔ اسلام ہی وہ عالمگیر مذہب ہے۔ تا حیات انسانیت کا ایسا منشور ہے جو نا صرف مسلم امہ کے لئے بلکہ رہتی دنیا کے لئے تاحیات زندگی کا وہ منشور ہے۔ جو عالم انسانیت کو اندھیروں سے روشنی کی نوید سناتا ہے۔ زندگی کو دنیا و آخرت میں کامیابی کی خوشخبری بھی دیتا ہے۔ وہ منشور “خطبہ حج الوداع ” کا پیغام انسانیت کا پیغام ہے ۔ یہ ہی رکن اعظم ہے۔ جس کے بغیر حج بھی قبول نہیں ۔ اس میں کیا بات ہے؟
یہ سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ ، حج الوداع کے وہ نکات ہیں …….. جو میدان عرفات میں آخری نبی ، نبی رحمت محمد رسول اللہﷺ نے 9 ذی الجہ ، 10 ہجری (7 مارچ 632 عیسوی) کو آخری خطبہ حج دیا تھا ۔ آئیے اس خطبے کے اہم نکات کو دہرا لیں ، کیونکہ ہمارے نبی نے کہا تھا ، میری ان باتوں کو دوسروں تک پہنچائیں ۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔۔
1۔ اے لوگو! سنو، مجھے نہیں لگتا کہ اگلے سال میں تمہارے درمیان موجود ہوں گا ۔ میری باتوں کو بہت غور سے سنو، اور ان کو ان لوگوں تک پہنچاؤ جو یہاں نہیں پہنچ سکے۔
2۔ اے لوگو! جس طرح یہ آج کا دن، یہ مہینہ اور یہ جگہ عزت و حرمت والے ہیں۔ بالکل اسی طرح دوسرے مسلمانوں کی زندگی، عزت اور مال حرمت والے ہیں۔ (تم اس کو چھیڑ نہیں سکتے )۔
3۔ لوگو کے مال اور امانتیں ان کو واپس کرو،
4 ۔ کسی کو تنگ نہ کرو، کسی کا نقصان نہ کرو۔ تا کہ تم بھی محفوظ رہو۔
5۔۔ یاد رکھو، تم نے اللہ سے ملنا ہے، اور اللہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال کرے گا۔
6۔ اللہ نے سود کو ختم کر دیا، اس لیے آج سے سارا سود ختم کر دو (معاف کر دو)۔
7۔ تم عورتوں پر حق رکھتے ہو، اور وہ تم پر حق رکھتی ہیں۔ جب وہ اپنے حقوق پورے کر رہی ہیں تم ان کی ساری ذمہ داریاں پوری کرو۔
8۔۔ عورتوں کے بارے میں نرمی کا رویہ قائم رکھو، کیونکہ وہ تمہاری شراکت دار (پارٹنر) اور بے لوث خدمت گذار رہتی ہیں۔
9۔۔ کبھی زنا کے قریب بھی مت جانا۔
10۔ اے لوگو! میری بات غور سے سنو، صرف اللہ کی عبادت کرو، پانچ فرض نمازیں پوری رکھو، رمضان کے روزے رکھو، اورزکوۃ ادا کرتے رہو۔ اگر استطاعت ہو تو حج کرو۔
11۔ ۔زبان کی بنیاد پر, رنگ نسل کی بنیاد پر تعصب میں مت پڑ جانا, کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر, عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں, ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ تم سب اللہ کی نظر میں برابر ہو۔
برتری صرف تقوی کی وجہ سے ہے۔
12۔۔ یاد رکھو! تم ایک دن اللہ کے سامنے اپنے اعمال کی جوابدہی کے لیے حاضر ہونا ہے،خبردار رہو! میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا۔
13۔ یاد رکھنا! میرے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا ، نہ کوئی نیا دین لایا جاےَ گا۔ میری باتیں اچھی طرح سے سمجھ لو۔
14 میں تمہارے لیے دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں، “قرآن” اور “میری سنت،” اگر تم نے ان کی پیروی کی تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔
15۔ سنو! تم لوگ جو موجود ہو، اس بات کو اگلے لوگوں تک پہنچانا۔ اور وہ پھر اگلے لوگوں کو پہنچائیں۔اور یہ ممکن ہے کو بعد والے میری بات کو پہلے والوں سے زیادہ بہتر سمجھ (اور عمل) کر سکیں۔
پھر آپ نے آسمان کی طرف چہرہ اٹھایا اور کہا …….. اے اللہ! گواہ رہنا، میں نے تیرا پیغام تیرے لوگوں تک پہنچا دیا ۔ یہ پیغام صرف امت مسلمہ کے لئے ہی نہیں بلکہ تا حیات رہتی عالمگیر انسانیت کے لئے پیغام امن و آتشگی کی نوید ہے ۔ نا صرف اس دنیا فانی بلکہ لا فانی دنیا آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بھی ہے۔ اللہ ربی آج تڑ پتی سسکتی عالم انسانیت ان اصول و ضوابط سے اپنی زندگی کی شاہراہ کو امن و آشتی کا پیغام دے سکیں ۔ وہ کلمہ حق بلند کر سکیں ۔
لبیک اللھم لبیک ………. لبیک لا شریک لک لبیک …….. ان الحمد والنعمة لک والملک ……… لا شریک لک !

اپنا تبصرہ بھیجیں