ویل للعرب – زبیر منصوری




ویل للعرب …..! پڑھا تھا تو سوچتا تھا آقا صلی اللہ الیہ وسلم اپنی پیاری قوم کو بربادی کا دکھ بھرا پیغام سنا کر کیوں گئے ؟ مگر آج کے عرب کو دیکھتا ہوں تو آقا ص کے قول کی صداقت پر ایمان اور بڑھ جاتا ہے۔ اسرائیل سے ہماری لڑائی ہی کیا ہے؟
وہ وہاں نکتہ بھی نہیں تھا عربوں کے سمندر میں مگر اب اس کی سیاہی طاقت کے زور پر پھیل کر فلسطین کی ساری زمین کو نگل گئی اور بے حمیت عرب اسے تسلیم بھی کرتے جاتے ہیں اور آپس میں کبھی گھوڑا آگے بڑھانے پہ جھگڑا کبھی پانی پہلے پلانے پہ جھگڑا ۔ غصہ آتا ہے ……… عربوں کے پاکستانی گماشتوں پر جو اپنے چندوں مدرسوں مسجدوں اور حج پروٹوکول کے لئے ہم ایسے سادہ لوگوں کی نظر میں ان بد بختوں کو خادم حرمین بتاتے رہے اور یہ اپنے بھائیوں کا خون بیچتے رہے . نیتن یاہو تم جیت گئے ! تم نے برسوں پہلے کہا تھا کہ آج تم اسرائیل سے جس کا تعلق ہو، اسے نکو بناتے ہو . ایک وقت آئے گا جب جس کا تعلق نہیں ہو گا . وہ نکو بن جائے گا تنہا ہو جائے گا .
گزرتا وقت اسرائیل کے نئے حامیوں کو سامنے لا رہا ہے انصافی حکومت جلد یا بدیر اس ظلم کی حمایتی ہو گی کامران خان جیسے دو مٹھی جو کی قیمت پر بکنے والے صحافی بھی ضمیر بیچیں گے اور شاید اور بھی بکاو مال دستیاب ہو جائے۔ مگر میرے مولا۔۔!
تیری بارگاہ میں ہم ان ٹوٹے پھوٹے لفظوں کے ساتھ حاضر ہیں ہم کچھ اور نہیں کر سکے . مگر ہم حریف شب رہے ہم نے کبھی اپنے فلسطینی بھائیوں کا خون نہیں بیچا . ہمارے قلم اور کی پیڈ سے دجال اور اس کے اتحادیوں کے حق میں کبھی کلمہ خیر نہیں نکلا اللہ تو ہمارا انجام بھی ان سے الگ کرنا !

اپنا تبصرہ بھیجیں