ہجرت کا قرض ابھی باقی ہے تم پر – افشاں نوید




اسلامی سال 1442 سن ہجری کا آغاز ہے ۔ اسلامی کلینڈر کی ابتدا کے لیے تو اور بھی کئی مبارک دن ہوسکتے تھے ۔ جس دن قرآن کا نزول شروع ہوا …… جس دن نزول قرآن مکمل ہوا . آپﷺ کی ولادت یا وفات کا دن ……. کسی کامیاب غزوہ کی یاد جیسے یوم بدر یا فتح مکہ مگر اسلامی کلینڈر ہجرت سے شروع ہوتا ہے۔
ہم کہتے ہی سن ہجری ہیں ۔ یعنی ہم اسلامی تاریخ کو “ہجرت “کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں …… محسوس کررہے ہیں , رقم کررہے ہیں , طے کررہے ہیں ۔ ہجرت ایک تکلیف دہ عمل ہے ۔ یہ محض نقل مکانی نہیں ہے ۔ یہ بائی چوائس بھی نہیں رہا ۔ سب نبیوں نے ہجرت کی , بہت کچھ من پسند چھوڑا ۔ دکھی تو آپﷺ بھی تھے ۔ وقت رخصت مکہ سے یوں مخاطب ہوئے جیسے دوست جگری دوست سے ہوتا ہے . یوں پرنم الوداع کہا جیسے اسے کہا جاتا ہے جس سے قلب وروح کے رشتے ہوں ۔ مٹی کے رشتے بڑے گہرے رشتے ہوتے ہیں ۔ آج جمعہ کے دن 1442 سن ہجری کا آغاز ہوچکا ہے ۔ جمعہ کا دن سورہ کہف سے جڑا ۔ ہر جمعہ کو لازم یادہانی ۔
وہ نوجوان تھے انکو “رشد”میں ترقی عطا ہوئی تھی ۔ جوانی لبھانے کے سب سامان تھے اس سماج میں بھی ۔ مگر وہ جاکر غار میں لیٹ گئے کہ اس بے ایمان معاشرے کی کوئی تال میل نہ بنتی تھی . ان کے ایمان کے ساتھ۔ سو مومنین کو ہر جمعہ یاددلایا جاتا ہے . واقعہ کہف کے ذریعہ کہ اہم تو بہت کچھ ہے مگر ایمان اھم تر ہے۔نوجوانوں کو بالخصوص اپنے ایمان کو بچانے کی فکر کرنی چاہیے کہ ان کے لیے لذات دنیا بے حد وسیع ہیں۔ہر برس یکم محرم بھی یاد دلاتا ہے کہ اسلامی سال کی انتہا بھی قربانی پر۔ ابراہیم خلیل اللہ و اسماعیل ذبیح اللہ کی عظیم یادیں ۔ ہجری سال کا آغاز نواسہ رسولﷺ اور انکے اہل بیت کی عظیم الشان قربانی سے سجا ۔ کربلا اسلامی تاریخ کا ناقابل فراموش چوراہا ۔
ہم سب مسافر ہیں …….. مہاجر ہیں ۔ کس کے لیے چھوڑ رہے ہیں اور کیا کیا چھوڑ رہے ہیں۔۔ دنیا نہ چاھتے ہوۓ بھی چھوڑنا پڑے گی ۔ البتہ لذات دنیا چھوٹنے کا نام نہیں لیتیں ۔ اسلامی سال کی یہ شوکت ہے کہ سن ہجری یاد دلاتا ہوا آتا ہے کہ دین کی خاطر کچھ بھی چھوڑا جا سکتا ہے , سب کچھ چھوڑا جاسکتا ہے ۔ سن 47 کی ہجرت بہتر معاش کے لیے نہ تھی ۔ محض انگریزوں سے گلوخلاصی بھی مطلوب نہ تھی ۔ زمین , جائیدادوں , نہروں , سمندروں , گوادر پورٹ , سی پیک کے لیے نہ تھی یہ ہجرت ۔۔۔ لاالہ الا اللہ تھا اس ہجرت کا مقصد ۔ سن ہجری کا آغاز سرگوشی میں پوچھتا ضرور ہے کہ …… سنو
نظریہ کے نام پر ہجرت کرنے والوں
ہجرت کا قرض ابھی باقی ہے تم پر!!

اپنا تبصرہ بھیجیں