اتحاد امت کی خواہش رکھنے والا عالِم رخصت ہوا – سعد حمید




عصر سے مغرب کا درمیانی وقت ہے ۔ میّت والی گاڑی میں تِل دھرنے کو جگہ نہیں ہے ۔ کچھ کو میں جانتا ہوں ، اکثر کو نہیں جانتا ۔ جانے کہاں کہاں سے لوگ آئے انہیں وداع کرنے ۔ انکے ساتھ جانے کیلئے بے تاب کہ لحد میں اترتا ہوا ماہتاب تو دیکھ آئیں ۔ دور افق پر سورج اپنی آخری کرنیں سمیٹ رہا ہے۔ گھر سے قبرستان تک کا فاصلہ سمٹ رہا ہے ۔ یادوں کے دریچے وا ہوتے چلے گئے۔
میں کون ہوں؟ میں ایک محبّ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا نواسہ ہوں کہ جس کے نانا جی نے اس کا نام حضرت سعد بن ابی وقاص رض کی نسبت سے رکھا۔ اور آج نام رکھنے والا دور جا رہا تھا۔ کھیتوں میں ہل چلاتے وقت کتاب پڑھنے والا ایک کسان لڑکا کہ جسکے علم نے اسے دنیا سے روشناس کروایا آج رخصت ہو رہا تھا۔ ایک درویش منش جو برستی بارش میں اپنے رفیق کار کے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھ کے درس دینے پہنچتا ہے اب آرام کرنا چاہ رہا تھا۔ ایک سادہ لوح جو عربی کے ضخیم صحیفے کی ورق گردانی میں غرق کھانے کا لقمہ سفید قمیض پر گرا بیٹھتا ہے آج سفید اجلے کفن میں لپٹا ہوا ہے۔ نانی جی سے بات ہو رہی تھی۔ لمحہ لمحہ یاد ہے انہیں۔ اور ہمیں بھی۔ تین بجے کا ہی وقت ہوگا۔ تہجد کیلئے اٹھے اور پھر لیٹ گئے۔ بتّی بجھا دی گئی۔ جائے نماز بچھا رہا۔ روح اپنے اصل کی جانب پلٹ گئی۔ سورج ڈوبنے والا تھا۔ اب علم و حکمت کے چاند کو غروب ہونا تھا۔
ابّا جی وداع ہوئے ۔ اتحاد امت کی خواہش رکھنے والا عالِم رخصت ہوا ۔ میرا طبیب لحد میں لیٹ گیا ۔ مولانا محمد اسحاق رحمہ اللہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ……. اللھم اغفرہ و ارحمہ
(مولانا 28 اگست 2013 بروز بدھ اس دنیا سے رخصت ہوئے۔)

اپنا تبصرہ بھیجیں