"اسلامی و غیر اسلامی ممالک کے بیچارے مسلمان"




تحریر : فیض اللہ خان
قومی ریاستوں کے اسلام سے متصادم نظریات کا
نتیجہ بھی عجیب و غریب نکلتا ھے یہی وجہ ھیکہ پاکستان میں بسنے والے “بنگالیوں” کو ملا عبدالقادر کی شہادت پر مذمتی بینرز لگانے پڑتے ھیں ،بھلا ھو چوھدری نثار کا کہ انکے موقف کی وجہ سے پاکستانی بنگالیوں کو بھی حوصلہ ملا ورنہ اگر اسمبلی میں اس پھانسی کیخلاف قرارداد منظور نہ ھوتی تو یہ بنگالی بھی عبدالقادر ملا کی حمایت کا بینرآویزاں نہ کرتے ،اسی طرح ھند میں بسنے والے مسلمان کی مجبوری ھیکہ وہ جب تک کھل کر پاکستان کی مذمت نہیں کرتے انکی روٹی بھی ھضم نہیں ھوتی لیکن کیا کریں “برھمن سوچ” کا کہ ان سب کے باوجود شا٥ رخ کو پاکستان جانے اور عدنان سمیع کو ملک چھوڑنے کا کہا جاتا ھے اور سرمایا ھونے کے باوجود ممبی و دلی کے مہنگے علاقوں میں مسلمانوں کو رھائش سے محروم رکھا جاتا ھے ،دیو بند جسے پاکستان کے بہت سے علماء فالو کرتے ھیں جہاد و قتال اور کشمیر سے متعلق ایسے ایسے فتاوی جاری کرتا رھتا ھیکہ اچھے اچھوں کے پاس صفائی میں کہنے کے واسطے کچھ نہیں ھوتا، یہ سب کرنا وھاں کے مسلمانوں و اداروں کی مجبوری بن چکا ھے ۔
اسی طرح یورپ و امریکا میں بسنے والے مسلمان اکثر یہود و نصاری سے بڑھ کر جہاد کی مخالفت پر کمر بستہ نظر آتے ھیں ،شعائر اسلام کی پامالی انکے لئے ضروری قرار پاتی ھے اور ان ریاستوں سے اسلام کی قیمت پر وفاداری کے بغیر وھاں کے حکام بھی خوش نہیں ھوتے، مسلمان بھی کیا کرے فکر معاش کیوجہ سے “پاک و ھند ” ھو “چین و عرب ” ھو یا “یورپ و امریکا” ھر جگہ اسے اپنی وفاداری “ریاست” ھی سے ثابت کرنا ھوتی ھے ، چاھے وہ  نام نہاد “اسلامی” ممالک میں رھے یا پھر “واقعی” غیر اسلامی ریاستوں کا مکین ھو
مشرقی پاکستان کے “بہاریوں” کا بھی عجیب دکھ ھے ، بنگہ سرکار انہیں “محصورین” قرار دیکر کیمپوں تک محدود رکھتی ھے ایک زمانہ تھا جب “مہاجر” حقوق کی علمبردار ایم کیو ایم کے انتخابی وعدوں میں انہیں واپس لانا سرفہرست ایجنڈا ھوا کرتا تھا ، لیکن پھر وقت بدلا اور وعدے بھی ،قومی ریاستوں کے تصور کے اسیر باسیوں کا ایک نشانہ “روھنگیا” کے برمی مسلمان بھی بنے جب “بھکشووں” نے انہیں آگ و خون کے مقتل سے گزارا ،تب یہ مظلوم پناہ کے واسطے بنگلہ دیش کی سرحد پہنچے تو “حسینہ واحد”سرکار نے انہیں بھی قبول کرنے سے انکار کردیا اور یوں وہ بے آسرا سرحدی علاقوں میں بے بسی کی موت کو گلے لگاتے رھے۔
نجانے کب وہ  بہار آئے گی جب اس خزاں رساں چمن میں لا الہ کا دور ھو گا ،جب اسلام سے جڑا اسلام آباد واقعی اسلامیوں کی پناہ گاہ  بنے گا اور قومیت وطنیت لسانیت اور فرقوں کے غلیظ بت ارض کعبہ سے گرائے جائیں ، تب یہاں دور دور٥ ھوگا شریعت کا ،انصاف کا، عدل کا اور احسان کا لیکن اسوقت تلک ان آنکھوں میں امید اور خواب دونوں ھی کو زندہ رکھنا ھوگا!!!!

اپنا تبصرہ بھیجیں