ہجرت سوئے دوست




تحریر ـــــــــ میمونہ اعظم

جب انسان مر جاتا ہے تو کہاں چلا جاتا ہے-بہت بچپن سے یہ سوال ہمارے ذہن کے دریچوں میں آن ٹھہراتھا-ہم نے اپنے ارد گرد کی سب صاحبِ عقل ہستیوں سے اس کی بابت پوچھنا شروع کیا-لیکن کو ئی بھی ہمارے ذہن کی الجھی ہوئی گتھیوں کو نہ سلجھاسکا-بہر حال جو جواب سب سے زیادہ ہمیں ملا وہ یہی تھا کہ انسان اللہ میاں کے پاس چلا جاتا ہے- تو کیا اللہ میاں کا گھر اتنا بڑا ہے کہ وہ ہر ایک کو اپنے گھر میں رکھ لیتے ہیں-ہم نے گاؤں کے باہر صحرا میں میلوں تک پھیلے ہوئے قبرستان کو تصور میں لا کر سوچا کہ وہاں تو اتنے لو گ ہیں،کیا وہ سب اللہ میاں کے گھر میں رہ رہے ہونگے— ہمارے ذہن میں اللہ میاں کا جو تصور تھا،وہ ایک مادی وجود کا سا تھا-
یونہی خیالی پیکر تراشتے تراشتے ہم نے مکتب کی دہلیز پر قدم رکھ دیا – تاحال ہمارا تصور،موت اور حیات بعد از ممات کے متعلق واضح نہیں تھا-دل اوہام کے صنم خانے میں بھٹکتا رہتا-نفی اور اثبات کی جنگ جاری رہتی-اور ذہن اس نکتے پر غور کرتا رہتا-
کدھر سے آتے ہیں یہ لوگ،کدھر چلے جاتے ہیں
مگر اس سب کے باوجود یہ ضرور ذہن میں تھا کہ ــ
جو اس جہاں سے گزر گئے،کسی اور شہر میں زندہ ہیں
کوئی ایسا شہر ضرور ہے انہی دوستوں سے بھرا ہو
جب رفتہ رفتہ شعور کی رو نے نشونما پانا شروع کی تو ذہن کی الجھی گتھیاں سلجھنے لگیں -اور ہمیں اپنے سوال کا جواب اقبال کے ہاں ملا ـ
مرگِ مومن چیست؟ہجرت سوئے دوست
ترکِ عالم اختیارِکوئے دوست ــــــــــــ‌!!!!!
یعنی مومن جب وفات پا جاتا ہے تو اپنے دوست اپنے اللہ کی طرف ہجرت کر جاتا ہے-وہ دوست کے کوچے میں جانے کے لئے دنیا سے کنارہ کشی کر لیتا ہے-
اور آج جب قاضی صاحب مرحوم کی وفات کی خبر ملی تو ہمارے ذہن میں سب سے پہلا خیال یہی آیا کہ وہ اپنے دوست،اپنے خالق و مالک کی طرف ہجرت کر گئے-وہ مردِقلندر اس فانی حیات کو ترک کر کے اپنے دوست کے کوچے میں چلا گیا جو ہمیشگی کا گھر ہے اور دائم آباد رہے گا-
قاضی حسین احمد صاحب محترم ایسی انقلابی روح کے حامل تھے کہ جس کے اندرقرونِ اولیٰ کے مسلماانوں کاسا سوز جھلکتا تھا–جس میں فکرِسیدّ کے چراغ جلتے تھے- جس نے جنوں کی مشعلوں کو تھام کر زمانے بھر کو ادراک کی خو سے روشناس کروایا کہ ــ
زمانہ عقل کو سمجھا ہوا ہے مشعلِ راہ
کسے خبر کہ جنوں بھی ہے صاحبِ ادراک
آقبال
وہ مردَمومن کہ جس کے ہاں ایسی ندرتِ فکر و عمل نظر آتی کہ جس سے راہ کے پتھر سنگِ میل بن جاتے-وہ قافلہ سالار کہ جس نے حدی خواں بن کر قافلے والوں کو انقلاب کی راہ دکھلائی-
ندرت فکر و عمل کیا شے ہے،ذوقِ انقلاب
ندرتِ فکر وعمل کیا شے ہے،ملّت کا شباب
اقبال
وہ آئینہ ساز کہ جس نے اپنی شانِ سکندری سے بے شمار راستہ بھٹکے ہوئے راہیوں کوروشنی کا راستہ دکھایا-پشاور یونیورسٹی کا یہ طالبعلم جو برسوں پہلے رہِعزیمت کا راہی بنا اور امام خمینی،سیّد قطب اور امام حسن البنّاشہید کی راہ پر چلا-وہ مہ بامِ خودی آج قبر کے اندر ڈوباـــ
اے زمانے تجھے معلوم ہے تیرے یم میں
آج کس شان کا اخلاص کا پیکر ڈوبا
جس کی کرنوں نے کئی مردے جِلائے اب تک
وہ مہ بامِ خودی قبر کے اندر ڈوبا
 
یہ تحریر قاضی صاحب کی وفات کے موقع پہ لکھی گئی ـــ
 

اپنا تبصرہ بھیجیں