میں ذرا وہاں چلا ہوں




تحریر:
محمد بشیرالدین بٹ
امیر جماعت اسلامی کنجاہ ـــ گجرات
آنکھوں میں اک خاص چمک کے ساتھ جمعیت کے نوجوانوں میں خود کو پا کر ہمیشہ ان کی آواز میں محبت کا سیلاب امڈ آتا ، جیسا کہ حقیقی والد اپنے بیٹوں سے مخاطب ہو ، موت کے برحق ہونے پر میرا ایمان ہے ، مگر یہ تحریر لکھتے وقت جبکہ انہیں ہم سے دور گئے ایک سال پورا ہو رہا ہے. نہ دل مانتا ہے ، نہ آنکھیں یقین کرتی ہیں کہ اب وہ اس جہاں فانی میں موجود نہیں ہیں .
جس عمر میں عام طور پر اچھے اور برے کی پہچان ہونا شروع ہو جاتی ہے ، اس کے آغاز میں ہی جس عظیم و پر وقار شخصیت کی آواز میرے دل کا ترانہ بنی، وہ میرے روحانی باپ ، میرے قائد و مرشد محترم قاضی حسین احمد رحمتہ الله علیہ تھے . جن کا بس پتہ چلنا کہ آج فلاں جگہ تشریف لا رہے ہیں، اور میرے لئے وہاں پہنچ جانا ، اک چیلنج بن جاتا تھا. پچپن سے میرا جیب خرچ تمام تحریکی بھائیوں کی طرح اسٹیکرز ، بیجز اور مطبوعات طلبہ کی دیگر اشیاء کی نزر ہونے کے ساتھ ساتھ قاضی صاحب کے قدآور پوسٹرز کے لئے وقف رہا ، ہم عمر ” کلاس فیلوز ” کے لئے میں کم گو ، اپنے آپ میں مگن رہنے والا، جسے پیغام ڈائجسٹ پڑھنے کے علاوہ کوئی خاص ” ہابیز ” لاحق نہیں ہوتیں تھیں، کزنز اور دوسرے عزیزوں کے لئے میں” قاضی کا دیوانہ ” تھا . کیوں کہ قاضی صاحب کے خلاف کوئی بات بھی مجھے گوارہ نہ ہوتی تھی. 1998 , فروری کا مہینہ تھا اور سردی دم توڑ چکی تھی جب احسان الله بٹ صاحب (امیر ضلع گجرات) کی جانب سے اطلاع موصول ہوئی کہ 11 دن بعد محترم قاضی صاحب کنجاہ ( پی پی 110 – گجرات ) الغرض میرے مہمان ہوں گے .
ان دنوں میری حزب کی زونل ذمہ داری تھی، تمام مقامی برادر تنظیموں کے ساتھیوں سے مل کر دن رات ” کنجاہ” کو اپنے قائد کے استقبال کے لیے تیار کرنا شروع کر دیا ، ہمارے پاس مغرب کا ٹائم طہ تھا، جس کے بعد قائد محترم نے پھالیہ پہنچنا تھا لیکن …. پروگرام سے ایک دن قبل محترم امیر ضلع کی ” راز دارانہ ” کال کہ ” قاضی صاحب اب رات بھر کے بھی مہمان ہیں آپ کے پاس” نے مجھے پاگل کر دیا ، ساتھ میں کہا گیا کہ انتظام کر لیں گے کیا ؟ نہیں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا . پروگرام انتظامات و ترتیب اور عوام الناس کو جلسہ گاہ کے لئے کثیر تعداد میں گھروں سے نکلنے کے حوالہ سے انتہائی کامیاب رہا، بلاشبہ قاضی صاحب کی کرشماتی و سحر انگیز شخصیت کا کمال تھا کہ ساتھیوں کی محنت ” الحمد لللہ” بھر پور رنگ لائی تھی ، اپنے عظیم قائد کو جلسہ کے بعد اپنے گھر میں ٹھہرایا، امی جان اور تائی جان نے مل کر کھانا تیار کیا تھا، رات گئے تک طہ شدہ پروگرام کے مطابق ، صحافی ، تاجر اور معززین علاقہ کے ساتھ نشستوں کا سلسلہ جاری رہا، ان کی ہمنوائی میں محترم سید منور حسن اور جماعت کی مقامی و ضلع کی سطح کی قیادت کے علاوہ 130 مہمانان کا لشکر جرار تھا . جن کا مکمل انتظام ہمارے بزرگ تحریکی ساتھی محترم خورشید احمد منہاس صاحب کے ” منہاس ہاؤس ” میں کیا گیا تھا، میں ساری رات قاضی صاحب کی آرام گاہ کے آگے چار پائی ڈالے برادر اختر محمود کے ساتھ موجود رہا. صبح ناشتہ کے بعد اپنے قائد کی قیادت و رفاقت میں پھالیہ ، ڈھوک کاسب اور منڈی بہاؤالدین تک جانے کا پروانہ ملا. دن بعد ڈھیر ساری یادوں ، محبتوں کو سمیٹے گھر واپس آ گیا اور آج تک ان یادوں کی خوشبو دل و دماغ میں موجزن ہے جو میرا اثاثہ بیش قیمت ہے .
گزشتہ سال ” اسپین ” کے ایک شہر ”ویلنسیا” میں حسب معمول موٹر بائیک پر کام ختم کرنے کی جستجو میں رات گئے تک بھاگ رہا تھا ، کہ ایک ساتھی کی کال نے ایسا جھٹکا لگا دیا کہ دن تک بخار نے بستر سے اٹھنے نا دیا. دیار غیر میں مجے یہ تیسرا جھٹکا لگا تھا ، سب سے پہلے میرے تایا جان کی وفات ، میرے دادا جان کی وفات اور پھر آغا جان کی وفات… ایک سال ہو گیا ، اور وہ عظیم المرتبت انسان جو ” دھوپ میں چھاؤں کی مانند تھا ” یقینا الله کی جنتوں میں ، سر سبز باغوں میں ” صدیقین ” کی ہمنوائی کا شرف حاصل کر چکا ہے ، مگر ان کا پیغام ہمیں چین سے جینے نہیں دے سکتا !
” میں ذرا وہاں چلا ہوں ، کبھی یاد کرتے رہنا
، میرے بعد میرے بیٹو ، یہ جہاد کرتے رہنا …
اے الله ! بابا جان کا راستہ حق کا راستہ تھا. جس پر انہوں نے اپنی جان الله کی امانت سمجھتے ہوۓ اہل پاکستان کے لئے ایک روشن مثال قائم کر دی ہے ۔
ہم عہد کرتے ہیں کہ
وہ جس پہ تو کامران ہوا ہے
مراد منزل کی پا گیا ہے
تیرے ہی رستے پہ میرے قائد !
جاری اپنا سفر رہے گا ..
ان شاء الله

میں ذرا وہاں چلا ہوں” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں