آواز….! – سماویہ وحید




آواز آرہی ہے مجھے ………! ہولناک ماحول ہے . ہر صبح ایک نئی قیامت لے کر بیدار ہورہی ہے . شہادت اب سب کا مقصد ہے . کوئی مظلوموں کی آہیں سننے والا نہیں بچا , ہر طرف بلبلاتی چیخیں ہیں لوگ کٹ مر رہے ہیں , امت محمدیہ صہ کا برا حال ہے ……… آزاد کلمہ گو خواب میں غفلت میں پڑے ہیں . اپنی زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں , مظلوموں کی فریاد رسا سننے والا کوئی نہیں ہے , صبح اندھیری نگر کی مانند ہے …….

ماؤوں کے کلیجے ذبح کیے جارہے ہیں , ہر طرف خون کے چشمے رواں دواں ہیں , آسمان بھی مظلوموں کی آہیں سن کر لرز چکا ہے, اس کے آنسو امت کے درد کے لیے رواں ہیں , راتیں بہت خونی ہے , چین کی نیند کسی کو میسر نہیں ہے, ہر طرف گہما گہمی کا عالم ہے, سب کلمہ گو جان کی بھیک مانگ رہے ہیں , امن نام کا نہیں ہے, ہر کونا لہو سے رنگا ہوا ہے , پھولوں کی خوشبو ماند پڑ چکی ہے , زمین بھی ظلم کے خلاف پھٹ پڑی ہے لیکن امت مسلمہ اپنی نیندوں کے مزے لوٹ رہی ہے. میری امت!!! میری امت!!! نبی صہ اپنی امت کے لیے فکر مند رہتے تھے، اس کے سلامتی کے لیے ہر وقت دعاگو رہتے تھے. ہم وہ ہے جو نبی صہ کا ولادت کا دن بڑی جوش وخروش سے مناتے ہیں. سال بھر میں ایک مہینہ کے لیے عاشقِ نبی صہ بن جاتے ہیں. کیوں……؟؟؟ نبی صہ تو ہر وقت اپنی امت کے لیے تڑپتے تھے. خیر ہم نام کے عاشقِ نبی صہ ہے اس لیے ہمیں کوئی درد محسوس نہیں ہوتا.

جب نبی صہ اپنی امت کے لیے ہر وقت فکر مند رہتے تھے تو ہم کیوں نبی صہ کے درد کو محسوس نہیں کرتے…..آج امت مسلمہ خون میں ڈوبی ہے تو آج کیوں ہم ان کے خلاف لڑ نہیں رہے…..ہم تو عاشقِ نبی صہ ہے نا………؟؟؟؟
میرے عزیزو!!! امت کٹ رہی ہے , مائیں فریاد کر رہی ہیں , ہر طرف خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں تو ہم کیوں خاموش ہے؟؟؟ ہم تو ایک امت ہے ہمارا درد بھی یکساں ہونا چاہیۓ تھا….. جب مظلوم اپنی مظلومیت کا اظہار کر رہیں ہیں تو ہم کیسے چپ رہ سکتے ہیں ؟؟؟؟ اگر امت مسلمہ یکجا ہو کر آواز بلند کرے گئی تو کافر ایک آواز سے لرز اٹھیں گے کیونکہ کافر تو مسلمانوں کے ایمان سے ہی خوف جاتے ہیں…. دراصل بات کچھ مختصر ہے ہمارے ایمان ہی کمزور ہے اس لیے ہم میں اتنی ہمت نہیں کے ہم کافروں کے خلاف آواز بلند کر سکیں . پیاروں ! زرا تصور میں لائیں کہ اگر آپ کی بیٹی کو کسی نے قتل کردیا ہو تو کیا آپ ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہیں گے ؟؟؟ یقیناً نہیں….!! آپ اس کے خلاف جو بھی ہوگا کریں گے…..تو کیا امت مسلمہ بھائی بھائی نہیں ہے؟؟؟ یقیناً حضور صہ کی حدیث کے مطابق بھائی بھائی ہے…..تو آپ کیوں درد محسوس نہیں کر رہے؟؟؟

قصہ کچھ مختصر ہے ہم شیطان کے حکم کی پیروی کرنے لگے ہیں…..نعوذ باللّٰہ……ہمارے ایمان میں کمی آ چکی ہے…… افسوس ہے تم پر کہ تم اہلِ ایمان ہو, افسوس ہے تم پر کہ تم کلمہ گو ہو, افسوس ہے تم پر کہ تم ایک نبی صہ کی امت میں سے ہو……میرے نبی صہ ہمیشہ اپنی امت کا درد محسوس کرتے تھے, اللہ سے امت کے لیے سلامتی کی دعائیں مانگتے تھے…..تمھاری غیرت پر افسوس, تمھاری بے بسی پر افسوس, تمھاری مفاد پرستی پر افسوس, کافروں کے سامنے جھکنے پر افسوس, تمھاری بے رحمی پر افسوس….. کمبختی ہے تمھاری کے اللہ نے تمھیں امت کے حق میں آواز بلند کرنے والا نہیں بنایا. آج جس زمین میں تم چین سے زندگی بسر کر رہے ہو اللّٰہ نہ کرے کہ یہ زمین کافروں کے قبضے میں آ جائے تو جو آج تم عیش پرست زندگی گزار رہے ہو وہ ایک قبضے کے زریعے ہی خاک میں مل جائے گی .

تمھارے حق میں بھی کوئی آواز بلند کرنے والا نہیں ہوگا ….. ڈنکے کی چوٹ پر میں کہتی ہوں کہ تم اور تمھارا نازک ایمان غارت ہو, تم تمھاری بے درد سمیت غارت ہو کیونکہ میں اس شخص کو کبھی مسلمان نہیں کہتی جو اپنے بھائیوں کو جلتا, مرتا, کٹتا دیکھ کر بھی خاموش رہے کیونکہ مسلمان کی فطرت میں ہے کہ وہ بے رحمیبکو کبھی برداشت نہیں کرسکتا وہ اپنے اہلِ ایمان کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کرتا ہے کیونکہ وہ کبھی انھیں کٹتا مرتا جلتا نہیں دیکھ سکتا ….. وہ جل رہے ہیں . وہ کٹ رہے ہیں. وہ مر رہے ہیں . وہ خون میں نہا رہے ہیں ……… اور تم سو رہے ہو ……… خوابِ غفلت میں پڑ ہو ……… عیشِ زندگی کے مزے لوٹ رہے ہوں ……. اپنی ہی دنیا میں خوش ہو .

میرے پیارو !!! تمھیں تمھارے ایمان کا واسطہ اپنی امت کے حق میں نکل کھڑے ہو, ان کی مظلومیت کا احساس کرو, کافروں کے خلاف ایسا لڑو کہ دوبارہ ان میں ظلم کرنے کی ہمت نہ بچے. تم ہماری زمین کا حصہ ہو ، تمھارا خوں ہمارا خوں ہے ، تمھارے لیے جان دینے سے بھی دریغ نہ کریں گے . کیونکہ تمھاری آہیں ہماری آہیں ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں