ہم نےحرمت مصطفیٰﷺ کی قسم کھائی ہے ۔ ثمن عاصم




فجر بعد سورہ یاسین کی تلاوت کے وقت یہ آیت نظر سے گزری تو دل بوجھل ہوگیا کہ جو کچھ فرانس میں موجود ملعون اور ابلیس صفت لوگوں نے کیا وہ کچھ نیا نہیں بلکہ یہ تو الله رب العالمين کے ہر نبی اور رسول کے ساتھ ہوا کہ وہ جھٹلائے گئے اور کم عقل اور جہلاء کے استہزا کا نشانہ بنتے رہتے ۔ الله باری تعالیٰ خود قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ

“افسوس بندوں کے حال پر، جو رسول بھی آیا ان کے پاس اسکا وہ مذاق ہی اڑاتے رہے۔کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں اور اس کے بعد وہ پلٹ کر کبھی ان کی طرف نہ آئے؟ ”

قوم نوح علیہ السلام سے لے کر آقائے دوجہاں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک تمام انبیائے کرام کو لوگوں نے جھٹلایا، طنز و تضحیک کا نشانہ بنایا یہاں تک کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر طائف کے بد بخت اور بد نصیب لوگوں نے پتھر بھی برسائے مگر الله گواہ ہے کہ حق کا بول بالا ہو کر رہا ایسے سیاہ نصیب وسیاہ دل جنہوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا آخرت کے عذاب کے ساتھ ساتھ انہوں نے دنیا میں بھی ذلت ہی سمیٹی۔

قیصر وکسری کے روشن محلات تاریک ہوگئے، قریش کے سرداروں کی سرداری چلی گئی، ابو جہل معصوم بچوں کے ہاتھوں مارا گیا اور ابو لہب کو رہتی دنیا تک مسلمانوں کی طرف سے لعنت ملتی رہے گی یہ وہی لوگ ہیں جو غرور کے نشے میں اتناآگے بڑھ گئے کہ نبی محترم کو تضحیک کا نشانہ بنانے لگے پھر کیا ہوا؟ آج دنیا میں ان کا نام و نشان نہیں رہا مگر جس محترم ومعظم ہستی کا مذاق بنایا اس کےایک اشارے پر جان دینے والے کروڑوں لوگ دن و رات اس ہستی پر درود و سلام بھیجتے ہیں ۔

نبی اکرم صلی الله عليه وسلم کی ذات اقدس پر آذادی رائے کے نام پر ہونے والی ناپاک جسارتیں وقتاً فوقتاً ہمارے ایمان کا بہت بڑا امتحان ہیں ہمارے لئے ناقابلِ بیان اذیت ہیں جو نبی ہمارے لیے ہماری اولاد اورماں باپ سے بڑھ کر ہیں ان پر اٹھنے والی ایک انگلی بھی ہمیں خود پر کسی گہرے گھاؤ سے کم نہیں لگتی مگر آج فرانس نے اسلام مخالف میں اس آذادی اظہارِ رائے اور آذادی صحافت کی آڑ میں جو گھناؤنا کھیل کھیلا ہے وہ ناقابلِ قبول ہے۔

ان امن کے ٹھیکیداروں سے سوال کیا جائے کہ آذادی اظہار رائے کا نام لے کر کروڑوں ، اربوں لوگوں کے جذبات سے کھیلنا کونسی اور کیسی آذادی ہے ؟ ایسے میں کوئی سر پھرا کوئی ایمان کی معراج پر پہنچا ہوا شخص کسی ایسے ہی دماغی مریض کو واصل جہنم کر دے پھر شکایت کیسی؟ بحیثیت امتی رسولِ اکرم صلی الله عليه وسلم ہم سب رنجیدہ ہیں ہمارے دل غم وغصے سے بھرے ہوئے ہیں مگر یم کر ہی کیا سکتے ہیں کا سوال دماغوں پر ہتھوڑے کی طرح برس رہا ہے؟ ہم سب کے بس میں صرف یہی ہے کہ ہم اپنی حکومت پر دباؤ ڈال کر فرانسیسی سفارتخانے کو بند کروادیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

انکے سفیر کو واپس بھیج دیں ،فرانس کی مصنوعات کو قطعاً استعمال نہ کریں اور اپنے قلم کو اس مقصد کے لئے استعمال کریں ہر پلیٹ فارم پر فرانس کی اس بد بختی کو اجاگر کریں مگر۔۔۔۔۔۔۔ ان تمام ذمہ داریوں پر بھاری ایک اور ذمہ داری ہے کہ ہم اسوہ رسول پر عامل ہو جائیں اور وہی حاکم منتخب کریں جو اسوہ رسول پر عمل پیرا ہو وہ ان ظالموں ، غاصبوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھے کہ ایسی جسارت کی ہمت بھی کیسے کی؟؟؟

اپنا تبصرہ بھیجیں