لہو لہو امت۔۔۔!! – خولہ زبیری




آج کا انسان اس دنیا کی رنگینیوں میں بے انتہا دلچسپی لیتا ہے۔۔۔۔۔آنکھوں کو خیرہ کردینے والی یہ ظاہری اور فانی چکاچوند اسے اپنے اندر سمو بیٹھی ہے۔۔۔۔۔وہ اس دنیا کو اپنی آرام گاہ سمجھ بیٹھا ہے۔۔۔۔سمجھتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ آسائشیں ہوں تو زندگی سنور جائے گی۔۔۔۔اس آسانیوں کی دوڑ میں وہ نیکیوں کی دوڑ لگانا بھول بیٹھا ہے۔۔۔۔۔

امت کا مسلمان اس دوڑ میں کہیں کھو گیا ہے۔۔۔۔۔وہ امت جسے امت وسط کہا گیا۔۔جسے بہترین امت کہا گیا آج کہیں دور۔۔۔۔بہت دور گم گئی ہے۔۔۔۔۔۔اس امت کا ایک ایک فرد سوشل میڈیا کے جال میں پھنسا ہے۔۔۔۔۔سوشل میڈیا کے جال سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے تو معاشرے میں جنم لیتی برائیاں اسے گھیرے میں لے لیتی ہیں۔۔۔جتنا بھی اپنے دامن کو کانٹوں سے بچا کر چلنا چاہے، کانٹے اس کا دامن پھاڑ کے ہی دم لیتے ہیں۔۔۔۔۔جتنا بھی اپنے پائنچے کیچڑ سے بچا کر چلنے کی کوشش کرلے۔۔۔کیچڑ کی ضدی چھینٹیں اس پہ لگ کہ ہی سکون کا سانس لیتی ہیں۔۔۔۔اس فتنہ فساد کے اندھیرے دور میں یہ امت کہیں غافل نیند سو گئی ہے۔۔۔۔اسے اس بات کا ہوش نہیں کہ سوتے ہوئے لوگوں کو تو کوئی بھی نہیں بخشتا۔۔۔۔جب سے یہ دنیا قائم ہوئی ہے ، تب سے ہی غافل لوگوں کی غفلت کا فائدہ اٹھا کے ان پہ روحانی اور ظاہری حملے کیے گئے ہیں۔۔۔۔۔

ہم آج تک گالا کے بسکٹوں اور ترنگ کی چائے تک ہی محدود ہو کے وہ گئے ہیں۔۔۔۔۔!!ہم یہ بھی نہیں سوچتے کہ ہمارے دین نے ہمیں اتحاد و اتفاق کا درس دیا تھا۔۔۔۔! آج ہم سندھی، پٹھان، بلوچی، پنجابی اور مہاجر جیسے کئی فرقوں میں بٹے نظر آتے ہیں۔۔۔۔ایک بکری بھی جب ریوڑ سے جدا ہو تو بھیڑیے سے بچ نہیں پاتی۔۔۔اور پھر یہ دنیا تو بھیڑیوں سے بھری پڑی ہے!!! بکری کو تو رب نے شعور نہیں دیا لیکن ہمیں تو دیا ہے نا۔۔۔۔؟ ہم تو یہ سوچ سکتے ہیں کہ امت میں فرقہ واریت کریں گے تو اچک لیے جائیں گے۔۔۔۔!! لیکن پھر بھی ہم یہ نہیں سوچتے۔۔۔۔۔وہ امت جو کبھی کسی دور میں دوسروں کے لیے مثال ہوا کرتی تھی آج آسمان سے زمین پہ گر کے کرچی کرچی ہو گئی ہے۔۔۔۔۔۔وہ روشن امت مسلمہ آج لہو لہو ہے۔۔۔!!یہ لہو لہو امت کسی ٹیپو سلطان یا خالد بن ولید کا انتظار کرتی رہتی ہے۔۔۔۔ ہم دوسروں کے سہارے کا انتظار کرتے کرتے کب اچک لیے جاتے ہیں پتہ بھی نہیں چلتا۔ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ کیوں نہ ہم ہی ٹیپو سلطان اور خالد بن ولید بن جائیں؟

کسی مسیحا کے انتظار میں رہنے کے بجائے یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ہم ہی مسیحا بن جائیں۔۔۔؟؟؟ کیا یہ نا ممکن ہے؟؟ نہیں بالکل نہیں۔۔۔۔یہ بالکل ممکن ہے!!!ہمیں ہی بیدار ہونا ہے! اس لہو لہو امت کو مستحکم بنانا ہے، ہمیں ہی اس کرچی کرچی، لہو لہو امت کو مضبوط بنانا ہے .ہاں ہمیں ہی اٹھنا ہے کیوں کہ قطرہ قطرہ ہی سمندر بنتا ہے اور یہ قطرہ قطرہ انشااللہ سمندر ضرور بنے گا۔۔۔۔!! قطرہ قطرہ ہی اس امت کے دکھوں کا مداوا کرے گا اور اسے اس کی بلندی کی شاہراہوں پر واپس گامزن کرے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں