شیخ القرآن والحدیث ، مولانا بزر جمہر ؒ – عالم خان




لکھتا ہوں اور مٹاتا ہوں انگلیوں سے نہیں لکھا جاتا کہ نصف صدی سے زائد قرآن، حدیث اور فقہ کی تدریس سے وابستہ ہزاروں علماء، عالمات، مجاہدین اور شہداء کا استاد شیخ القرآن والحدیث مولانا بزر جمہر ؒاللہ تعالی کو پیارے ہوگئے ایک ہی منٹ میں آپ کے ساتھ بیتے ہوئے لمحات آنکھوں کے سامنے سے ایسے گزرنے لگے جیسا کہ تیز رفتار گاڑی میں سفر کے دوران دائیں بائیں خوبصورت مناظر گزرتے ہیں۔

وہ میرے تفسیر، حدیث اور فقہ کے استاد تھے اللہ تعالی نے علمیت کے ساتھ ساتھ اعتدال، فصاحت، بلاغت اور زبان کی شیرنی سے نوازا تھا جب درس دیتے تھے تو یہ حروف مرئی شکل میں گویا ان کی زبان سے نکل کر ذہن میں منتقل ہوتے تھے۔ میں دورہ حدیث کے سال درس کے بعد اکثر گھر تک ساتھ جاتا تھا اور رستے میں فقہی، تفسیری اور حدیث کے مباحث پوچھتا تھا وہ ان کے باون (٥٢) واں سال تدریس تھا جسمانی طور پر نحیف اور کمزور تھے لیکن میرے شوق تعلم اور علم کو امانت سمجھتے ہوئے کبھی نہیں کہتا کہ تھکا ہوا ہوں بلکہ جب میں کہتا کہ سمجھ گیا اتنا کافی ہے کیوں کہ مجھے احساس ہوتا تو ہنستے اور میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہتے کہ اخونہ (پیار سے اس نام سے پکارتے ) میں آپ سے جوان ہوں۔

شفقت، محبت اور برداشت کا پیکر تھے درس بخاری اور ترمذی میں وقفے کے دوران ہاتھ اور پیر دباتا تھا آپ کا جسم کمزور تھا اس لیے زیادہ زور نہیں دے سکتا تھا تو ایک بار ڈانٹا کہ زور سے دباو اس میں بھی محبت اور جلال دونوں تھا جب زور سے دبانا شروع کیا تو خوش ہوئے اور دعائیں دینے لگے تین سال پہلے پاکستان آیا تھا ملاقات کے لیے حاضر ہوا پہلے پہچانا نہیں کیوں کہ حافظہ کمزور ہوا تھا پھر جب میں نے یاد دلائی تو گلے سے لگایا اور ہنسنے لگے کہ یہ میرے ہاتھ اور پیر اتنے زور سے دباتا تھا کہ ایک دن میری پنڈلی سے خون نکلا تھا مجھے پتہ لگا اور اس کو پتہ نہیں لگا لیکن میں نے کچھ نہیں کہا کہ یہ پریشان نا ہوجائیں۔

استاد محترم کا علم حدیث سے بے پناہ محبت تھی میں وہ دن بھول نہیں سکتا کہ مسنجر پہ میسج آیا کہ اگر آپ فارغ ہیں تو شیخ صاحب آپ سے ویڈیو کال پر بات کرنا چاہتے ہیں میں نے سیدھا کال کیا اگرچہ پتہ بھی نہیں تھا کہ کونسے شیخ صاحب ہیں جب انہوں نے کال اٹھائی اور کیمرہ آن ہوا تو وہ استاد العلماء بزر جمہر ؒ تھے میری خوشی کی انتہا نہیں تھی کیوں کہ یقین نہیں ارہا تھا کہ کبھی یہ شرف مجھے ملے گا دعا وسلام کے بعد وہی انداز وہی شفقت اور محبت فرمایا: “کہ اخونہ شاگردوں اور دوستوں سے پتہ چلا کہ ایک یہودی کے احادیث پر اعتراضات کے جوابات آپ دے رہے ہیں”۔ میں نے کہا جی کوشش کر رہا ہوں پھر چند اعتراضات اور جوابات سنائیں تو دست بدعا ہوئے اور فرمایا: “کہ جب سے یہ سنا ہے خوشی سے نیند نہیں ارہی تھی کہ کب آپ سے بات ہوجائے گی”۔ اس کے بعد بہت سے باتیں کیں آخر میں فرمایا : “کہ میں یہاں جندول دیر پائین میں دورہ تفسیر کے لیے آیا ہوں آپ سے رابطہ رہے گا مجھے بس اس یہودی کا تذکرہ کرتے رہنا اس سے میرے سینے کو ٹھنڈک پہنچتی ہے”۔

اللہ تعالی استاد محترم کو غریق رحمت کرے اور جنت الفردوس میں اعلی و ارفع مقام سے نوازیں۔ پسماندگان کو صبر جمیل اور تحریک اسلامی کو اس کا نعم البدل دیں۔ آمینلکھتا ہوں اور مٹاتا ہوں انگلیوں سے نہیں لکھا جاتا کہ نصف صدی سے زائد قرآن، حدیث اور فقہ کی تدریس سے وابستہ ہزاروں علماء، عالمات، مجاہدین اور شہداء کا استاد شیخ القرآن والحدیث مولانا بزر جمہر ؒ اللہ تعالی کو پیارے ہوگئے ایک ہی منٹ میں آپ کے ساتھ بیتے ہوئے لمحات آنکھوں کے سامنے سے ایسے گزرنے لگے جیسا کہ تیز رفتار گاڑی میں سفر کے دوران دائیں بائیں خوبصورت مناظر گزرتے ہیں۔ وہ میرے تفسیر، حدیث اور فقہ کے استاد تھے اللہ تعالی نے علمیت کے ساتھ ساتھ اعتدال، فصاحت، بلاغت اور زبان کی شیرنی سے نوازا تھا جب درس دیتے تھے تو یہ حروف مرئی شکل میں گویا ان کی زبان سے نکل کر ذہن میں منتقل ہوتے تھے۔

میں دورہ حدیث کے سال درس کے بعد اکثر گھر تک ساتھ جاتا تھا اور رستے میں فقہی، تفسیری اور حدیث کے مباحث پوچھتا تھا وہ ان کے باون (٥٢) واں سال تدریس تھا جسمانی طور پر نحیف اور کمزور تھے لیکن میرے شوق تعلم اور علم کو امانت سمجھتے ہوئے کبھی نہیں کہتا کہ تھکا ہوا ہوں بلکہ جب میں کہتا کہ سمجھ گیا اتنا کافی ہے کیوں کہ مجھے احساس ہوتا تو ہنستے اور میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہتے کہ اخونہ (پیار سے اس نام سے پکارتے ) میں آپ سے جوان ہوں۔

شفقت، محبت اور برداشت کا پیکر تھے درس بخاری اور ترمذی میں وقفے کے دوران ہاتھ اور پیر دباتا تھا آپ کا جسم کمزور تھا اس لیے زیادہ زور نہیں دے سکتا تھا تو ایک بار ڈانٹا کہ زور سے دباو اس میں بھی محبت اور جلال دونوں تھا جب زور سے دبانا شروع کیا تو خوش ہوئے اور دعائیں دینے لگے تین سال پہلے پاکستان آیا تھا ملاقات کے لیے حاضر ہوا پہلے پہچانا نہیں کیوں کہ حافظہ کمزور ہوا تھا پھر جب میں نے یاد دلائی تو گلے سے لگایا اور ہنسنے لگے کہ یہ میرے ہاتھ اور پیر اتنے زور سے دباتا تھا کہ ایک دن میری پنڈلی سے خون نکلا تھا مجھے پتہ لگا اور اس کو پتہ نہیں لگا لیکن میں نے کچھ نہیں کہا کہ یہ پریشان نا ہوجائیں۔

استاد محترم کا علم حدیث سے بے پناہ محبت تھی میں وہ دن بھول نہیں سکتا کہ مسنجر پہ میسج آیا کہ اگر آپ فارغ ہیں تو شیخ صاحب آپ سے ویڈیو کال پر بات کرنا چاہتے ہیں میں نے سیدھا کال کیا اگرچہ پتہ بھی نہیں تھا کہ کونسے شیخ صاحب ہیں جب انہوں نے کال اٹھائی اور کیمرہ آن ہوا تو وہ استاد العلماء بزر جمہر ؒ تھے میری خوشی کی انتہا نہیں تھی کیوں کہ یقین نہیں ارہا تھا کہ کبھی یہ شرف مجھے ملے گا دعا وسلام کے بعد وہی انداز وہی شفقت اور محبت فرمایا: “کہ اخونہ شاگردوں اور دوستوں سے پتہ چلا کہ ایک یہودی کے احادیث پر اعتراضات کے جوابات آپ دے رہے ہیں”۔ میں نے کہا جی کوشش کر رہا ہوں پھر چند اعتراضات اور جوابات سنائیں تو دست بدعا ہوئے اور فرمایا: “کہ جب سے یہ سنا ہے خوشی سے نیند نہیں ارہی تھی کہ کب آپ سے بات ہوجائے گی”۔ اس کے بعد بہت سے باتیں کیں آخر میں فرمایا : “کہ میں یہاں جندول دیر پائین میں دورہ تفسیر کے لیے آیا ہوں آپ سے رابطہ رہے گا مجھے بس اس یہودی کا تذکرہ کرتے رہنا اس سے میرے سینے کو ٹھنڈک پہنچتی ہے”۔

اللہ تعالی استاد محترم کو غریق رحمت کرے اور جنت الفردوس میں اعلی و ارفع مقام سے نوازیں۔ پسماندگان کو صبر جمیل اور تحریک اسلامی کو اس کا نعم البدل دیں۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں