Home » نہ چھیڑ اے ہم نشیں ۔۔! – عربا نعیم
عالم اسلام

نہ چھیڑ اے ہم نشیں ۔۔! – عربا نعیم

کبھی کہیں سے گزرتے وقت “سنو” کی آواز کانوں میں پڑتی ہے ۔۔۔ ایک انجانی سی آواز ۔۔۔۔تو لا شعوری طور پر سب مڑ کر دیکھتے ہیں حالآنکہ نام کسی کا بھی نہیں پکارا گیا ہوتا۔

پکار۔۔۔۔ صورتحال بدلیں تو ایک اجنبی جگہ سے آپ گزر رہے ہیں جہاں سب انجان ہیں آپ کے لئے ۔۔اور ایک مانوس سی آواز کانوں میں پڑتی ہے ۔۔۔۔اب بھی آپ مڑ کر ضرور ہی دیکھیں گے بے شک “سنو” کی پکار نہ سنائی دی ہو کیونکہ اب آپکواس اجنبی جگہ پر کسی کے ساتھ کی ضرورت ہے جو راہنمائی کرسکے اور شائد وہ کوئی قریبی ہو۔۔

پکار۔۔۔۔۔آپ ایک انجان جگہ پر ہیں اور آپ سخت تکلیف میں ہیں ۔۔اب آپ اپنے کسے عزیز کو وہاں ڈھونڈنے نہیں نکل پڑیں گے یا منتظر رہیں گے کہ کوئی آئے اور مدد کرے۔۔۔بلکہ جو بھی سامنے نظر آئے گا اس سے مدد مانگیں گے۔بس یہی ہماری مطلوبہ صورتحال ہے ۔۔اب ذرا فرض کیجئے کہ آس پاس کوئی نہیں ہے تب کیا کریں گے ؟تب پھر ہم پکاریں گے ۔۔۔۔آوازیں دیں گے ۔۔۔۔آپ کے ذہن میں کیا خیال ہوگا ؟ یہی کہ آواز سن کر کوئی رحم دل یہاں آجائے گا ۔۔۔اب فرض کیجئے کہ آپ کسی دیار غیر میں ہیں جہاں ذرہ بھر بھی کوئی امید نہیں کہ کوئی جاننے والا،کوئی پرسان حال نہیں آئے گا ۔۔۔تب بھی ۔۔۔تب بھی آپ آوازیں دیں گے ۔۔۔پکاریں گے ۔۔کہ شائد ۔۔۔۔شائد کوئی آجائے۔۔۔۔

القدس دیار غیر میں ہے ۔۔۔۔کیا کسی کو اسکا خیال آیا ؟
القدس تکلیف میں ہے ۔۔۔کیا کوئی اسکے زخموں پر مرہم رکھنے گیا؟
القدس جل رہا ہے ۔۔۔۔کیا کسی کو اس کی آگ بجھانے کیا خیال آیا؟
القدس پکار رہا ہے۔۔۔اور ہم سن کر بھی اس کی پکار کو ان سنا کر رہے
القدس نام لے کر پکار رہا ہے ۔۔۔اور ہم محض دعائیں کررہے ہیں ۔۔اسکی تکلیف کا اندازہ ہی نہیں لگا پا رہے
ایک شعر یاد آرہا کہ

بیچ کے تلوار خرید لیے مصلّے تو نے
بیٹیاں لٹتی رہیں اور تم دعا کرتے رہے

اگر آج بات القدس کی نکل پڑی ہے تو بہت دور تک جائے گی ۔۔۔۔شروعات کرتے ہیں القدس کی تاریخ سے انبیا ء کی سرزمین، جسکا زرہ ذرہ مقدس ہے ۔کئی بار تخت و تاراج ہوئی ۔۔۔کئی بار اسکی آبادیوں کو جلا وطن کیا گیا ،گلیوں میں آگ اور خون کی ہولی کھیلی گئی ۔۔ یہودیوں کے نزدیک اسلیے مقدس ہے کیونکہ ان کے نزدیک کائنات کی تخلیق یہاں سے شروع ہوئی ۔۔حضرت ابراھیم ع نے اپنے بیٹے اسحقؑ کی قربانی کی تیاری یہاں کی اور بیت المقدس کی مغربی دیوار ہیکل سلیمانی کی دیوار کا بچا ہوا حصہ ہے . عیسائوں کے نزدیک حضرت عیسٰیؑ کی جائے پیدائش ہے اور انکو یہیں مصلوب کیا گیا علاوہ ازیں انکا سب سے بڑا کلیسا Church of Holy Sepulchre
بھی یہیں پر موجود ہے۔ اور مسلمانوں کے نزدیک تو اسکی اہمیت کا اندازہ تو سب کو ہے ۔۔۔۔

1000 قبل مسیح میں حضرت داؤدؑ نے فتح کیا اور 33 سال حکومت کی ۔۔پھر حضرت سلیمان ؑ نے یہاں ہیکل سلیمانی تعمیر کرایا جو دراصل ایک معبد تھا جس میں تابوت سکینہ رکھا گیا تھا ۔۔۔تابوت سکینہ شمشاد کی لکڑی کا بنا ہوا صندوق تھا جو جنت سے حضرت آدمؑ کو بھیجی گئی تھی ۔صندوق حضرت آدمؑ سے نسل در نسل حضرت سلیمان ع تک پہنچا اور اسمیں حضرت موسیٰؑ کا عصا ‘ ان کی جوتی ‘ حضرت ہارون ؑ کا عمامہ’ حضرت سلیمان ع کی انگوٹھی’تورات کی تختیوں کے ٹکڑے’کچھ من و سلویٰ اور انبیا کی صورتوں کے حلیے تھے ۔۔
560 قبل مسیح میں بخت نصرنے ‘جسے دنیا شداد کے نام سے جانتی ہے’ بیت المقدس بغیر کسی مزاحمت کے فتح کیا اور ہیکل سلیمانی تباہ کر کے تابوت سکینہ اپنے ساتھ لے گیا ۔۔اور اسکی بے حرمتی کی یعنی کہ پھینک دیا کہیں پر ۔۔۔۔اور آج تک وہ لاپتہ ہے ۔۔۔اور باقی غلام وغیرہ اپنے ساتھ بابل لے آیا اور ان غلاموں کا ایک شہر آباد کیا جسکا نام تل ابیب رکھا ۔۔۔

740 ق۔م میں سائرس اعظم نے بابل فتح کیا اور ہیکل سلیمانی کی دوبارہ سے تعمیر شروع کی۔ 70قبل مسیح میں رومی جرنل نے اسے تباہ کر دیا اور حیرود اعظم نے اس کی دوبارہ تعمیر شروع کی۔۔ 70 عیسوی میں جب رومی جرنل تیوتس بیت المقدس میں داخل ہوا توکچھ رومی ایک یہودی کے پیچھے ہیکل میں داخل ہوگئے اور یہودی نے جلتی ہوئی مشعل ہیکل میں پھینک دی اور اسے آگ لگ گئی اور وہ جل کر تباہ ہو گیا اور اس کے بعد صدیوں تک غلاظت اور گندگی کے ڈھیر یہاں پر پڑے رہے ۔ رومی یہودیوں سے نفرت کی وجہ سے تمام تمام کوڑا یہیں پر پھینکتے تھے۔ 136ع میں ہیڈجرن نے دوبارہ شہر کو آباد کیا اور اس کا پہلے نام ہیلیا اور پھر کیسیٹولینا رکھا ۔۔۔ حضرت عمر ؓ کی فوج نے 638ع میں بازنطینیوں کو شکست دی تو وہاں پر صرف صرف کھنڈرات تھے حضرت عمرؓ نے وہاں مسجد اقصیٰ کی تعمیر کروائی ۔۔

پچاس سال بعد عبدالملک بن مروان نے مسجد اقصٰی اور قبۃ الصخرہ کی تعمیر ِ نو شروع کی یہودیوں کے مطابق قبۃ الصخرہ میں واقع اسی چٹان پر حضرت ابراہیمؑ نے حضرت اسحاقؑ کی قربانی کی تیاری کی تھی اور حضرت سلیمانؑ نے ہیکل سلیمانی بھی یہیں پر بنایا تھا لیکن آج تک وہ بات کو دلیل سے ثابت نہیں کر پائے کہ یہی ہیکل سلیمانی ؑ کی جگہ ہے اور ہمارے نزدیک اسی چٹان سے آپﷺ براق پر بیٹھ کر جبرائیل کے ساتھ آسمانوں پر گئے ۔عبدالملک بن مروان کی وفات کے بعد ولید بن عبدالملک نے مسجد اقصیٰ کی تعمیر کو مکمل کروایا۔ 1099ع میں پہلی صلیبی جنگ میں فتح کے بعد عیسائیوں نے بیت المقدس میں کافی ردوبدل کیا وہاں رہنے کے کمرے بنائے۔معبد سلیمانی تعمیر کیا اور وہاں پرگرجا بھی تعمیر کرایا ۔اس بیت المقدس کو عیسائیوں کے قبضے سے نکالنے کے لیے صلاح الدین ایوبی نے سولہ جنگیں لڑیں اور بالآخر 1887ع میں فتح کر لیا مسجد اور محراب دوبارہ بنوائے۔

اس کے بعد بھی چار مزید جنگ مگر صلیبیوں کو شکست ہوئی ۔1229ع میں مملوک حکمران الکامل نے بیت المقدس بغیر کسی مزاحمت کے فریڈرک دوئم کو دے دیا لیکن 15 سال بعد ہی خوارزمیہ نے اس کو فتح کرلیا اور 673 سال تک مسلمان اس شہر میں رہے۔ 1517ع میں عثمانی سلطان سلیم اول نے بیت المقدس کو عثمانی سلطنت میں شامل کیا۔ 1517سے 1917 تک یہ عثمانی سلطنت میں شامل رہا ۔سلاطین نے اس کے گرد دیوار بنوائی ۔سڑکیں بنوائیں ڈاک کا نظام قائم کیا 1892 میں ریلوے لائن بچھائے گئی۔۔1897 میں تھیوڈر ہرتزل نے ‘جو یہودی اور صہیوانی لیڈر تھا، World’s Zionist Organization کی بنیاد رکھی . یہ یہودی ریاست کے لئے فلسطین کا انتخاب کر چکے تھے ۔ 1901میں تھیوڈر نے عثمانی سلطان عبدالحمید خان دوئم کو پیغام بھیجاکہ

“یہودی سلطنت عثمانیہ کے تمام قرضے ادا کرنے کو تیار ہیں آپ فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن بنانے کی اجازت دے دیں” اور غیورعثمانی سلطان نے جواب دیا کہ “میں اس سرزمین فلسطین کا ایک انچ بھی یہودیوں کو نہیں دوں گا کیونکہ فلسطین میرا نہیں بلکہ امت کا ہے اور امت نے اس کی حفاظت کے لیے خون بہایاہے”

اس کے بعد اس کے تختہ الٹنے کی سازشیں شروع ہوگئیں۔ باغیوں نے ترک فوج میں اثرات پیدا کیے اور سات سال بعد ہی 27 اپریل1909 کو اسے معزول کرکے جلاوطن کر دیا گیا۔ 11 دسمبر 1917 کو برطانوی جنرل نے اس وقت کے کمزور عثمانیوں کو شکست دے دی اور بیت المقدس پر قبضہ کرلیا اور اس پر بہت جشن منایا گیا اخباروں میں یہ سرخی لکھی گئی

“Jerusalem is rescued by British after 673 years of Moslem Rule”

بیت المقدس تیس سال تک برطانوی سلطنت کا حصہ رہا اور یہاں پر یہودیوں کولا لا کر بسایا گیا۔ 29 دسمبر 1947 کو اقوام متحدہ نے فلسطین کی تقسیم کی قرار داد منظور کی۔ فلسطین اور بیت المقدس کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ۔ مشرقی حصہ فلسطینیوں کو اور مغربی حصہ یہودیوں کو دے دیا گیا۔ 14مئی1948 کو مغربی حصے کو اسرائیل کا نام دے دیا گیا ۔ عربوں کے لیے بات ناقابل قبول تھی ۔تمام عرب ممالک نے مل کر حملہ کیا لیکن انہیں شکست ہوئی ۔ مشرقی بیت المقدس دو عشروں تک اردن کے اقتدار میں رہا 1967 میں اسرائیل نےمشرقی فلسطین پر بھی قبضہ کر لیا ۔تمام دنیا قبضے کو غیرقانونی مانتی ہے۔ 1950 میں فلسطین کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیا گیا کیا لیکن اس کے سفارتخانے ابھی تل ابیب میں واقع ہیں ۔ 11 دسمبر 1917 کو برطانیہ نے قبضہ کیا اور اس کے پورے سو سال بعد یعنی 11 دسمبر 2017 کو کو ٹرمپ نےفلسطین نے اسرائیل کو دارالحکومت قرار دیا ۔

نہ چھیڑ اے ہم نشیں کیفیت صہبا کے افسانے
شراب بے خودی کے مجھ کو ساغر یاد آتے ہیں

القدس کی سرزمین روزانہ اس امید پر دن کا آغاز کرتی ہے کہ شائد کوئی اس کی مدد کو آئے ۔۔
القدس کی بچیوں نے اسی لئے آج بھی گھروں سے دف نہیں پھینکے کہ وہ مسلم فوج کی منتظر ہیں۔۔
القدس کی بیٹیاں روزانہ خون سے خط لکھتی ہیں کہ مبادا پھر کوئی صلاح الدیں ایوبی آ جائے۔۔۔
القدس کی خواتین اسی امید پر سو جاتی ہیں کہ شائد راتوں رات کوئی محمد فاتح شہر کو فتح کرلے ۔۔
القدس کے نوجوان پھر سے اسی منظر کے منتظر ہیں

کہ آقا چل دئے پیدل سواری پر غلام آیا

مگر نہیں ،،،مسلم امت کے حکمران دنیا کو تیل بیچنے سے فارغ ہوں تو کچھ القدس کا سوچیں نا ۔۔۔۔مسلمانوں کی یہ بے توقیری مزید کس حد کو چھوئے گی ؟سوچیے گا ضرور۔۔۔