Home » القدس لنا!! – فضہ ایمان
عالم اسلام

القدس لنا!! – فضہ ایمان


رمضان کی ستائیسویں شب تھی،نمازیوں کی تعداد بڑھتی جارہی تھی۔متعکفین بھی دائرہ بنائے عبادت میں مگن تھے ۔ ماحول میں سکینت طاری تھی ۔ اللہ کے ذکر سے ہر دل مطمئن تھا ۔مسجد اقصی کے درودیواربھی خوشی سے نہال تھے۔ اچانک کان پھاڑ دینے والی آواز نے فضا کا تقدس پامال کیا ۔ لوگوں میں ہلچل مچنے لگی تھی ۔

بھاری بوٹوں کی دھمک اور جدید ترین اسلحے کی نمائش کرتی غاصب یہودی فوج مسجد اقصی میں داخل ہوگئی تھی۔اور نہتے مسلمانوں پر آنسو گیس کی شیلنگ شروع کردی ۔ نمازیوں نے بھی “مقابلے “کے لیے” ہتھیار” یعنی پتھر،درختوں کی لکڑیاں اور ڈنڈے اٹھا لیے ۔ ماحول بالکل تبدیل ہوچکا تھا۔ جو کچھ دیر پہلے آنسو بہا رہے تھے اور ان کے دل ریشم کی مانند تھے اب دشمن کے آگے فولاد بنے کھڑے تھے۔ یہی مومن کی شان ہے۔۔ مسجد کی حفاظت کے جرم میں بڑی تعداد زخمی اور شہیدہوئی۔ مرد خواتین حتی کہ چھوٹے بچے بھی جیلوں میں بھر دیے گئے ۔وہیں امام نے اپنی جگہ نہ چھوڑتے ہوۓ نماز جاری رکھی نہ موت کا خوف!! نہ اسیری کا غم!! جو کھلم کھلا پیغام دے رہا تھا، ہم قدس کے بیٹے ہیں ، نہ ہم سر جھکائیں گے، نہ خوف کھائیں گے، سنت نبھائیں گے، جاں اپنی دے کر بس اقصٰی بچائیں گے۔

خبریں سوشل میڈیا پر پھیلیں تو ہر طرف شور مچ گیا۔ بہت سی تصاویر اپنے رنگوں سمیت شئیر ہونے لگیں ۔ ہر تصویر کہ رہی تھی
“ہمارے ہتھیار ہماری مسکراہٹیں ہیں جو دشمن کو برداشت نہیں” اور بےاختیار میرا انگ انگ یہ بول اٹھا ،اے اقصٰی کے ذکریا،یحییٰ ،مریم ،جمے رہو، ڈٹے رہو،مسکراتے رہو،دشمن کو جلاتے رہو،ہماری دعائیں تمھارے ساتھ ہیں ،امت کے جذبے تمھارے ساتھ ہیں۔