عالم اسلام

مصلئ امام النبیاء – صدف عنبرین

ان کو کسی نے نرمی سے نیند سے جگایا تھا ……….. اسی نے جو پہلی بار جبل نور پر ……. دوسری بار آسمان و زمیں کے درمیان کرسی پہ بیٹھا نظر آیا تھا ………. سینہ چاک کیا دل زم زم سے دھویا …………. کس سے ملنے کے لیے تیار کررہا تھا . ہر کدورت اور میل سے پاک
کرکے سواری تھمائی تو برق رفتار …….. نام ہی براق ٹھرا

داراحجرۃ دکھایا۔۔۔قوم آپ کو نکال دے گئی ……. ہیں !میری قوم مجھے نکال دے گی حیرت میں بھی کرب تھا . طور دکھایا۔۔۔دیکھ لیں جلوے کی تاب نہیں کسی میں،کلیم اللہ گواہ ہیں …… بیت الحم دکھلایا۔۔۔۔آپ کے اللہ کے لیے بغیر باپ کے تخلیق کرنا بھی کوئی مشکل کام ہے؟ اور تو اور نومولود سے شہادت دلوادی سفر مگر جاری تھا ۔نہ براق رکتا تھا نہ لے جانے والے کے پر پھر جو قیام کیا تو تمام انبیاء کو موجود پایا یہ بیت المقدس ہے حضور!!انبیاء منٹظر ہیں نماز کے لیے صف درصف ……………….. خلیل اللہ کے ہوتے کون آگئے بڑھے؟
سب معزز سب محترم ……. جد امجد پکارا ہے خود اللہ نے ابراھیم!! حنیف!! یکسو!! اللہ کے دوست یہ کیا اس بار بھی ساتھ لانے والا آگۓ بڑھا ……. جیسے سب احکام لے کر اترا ہے ……. آپ کو پکڑا امام کی جگہ کھڑا کردیا …… محبوب خدا ہر ایک سے آگئے کھڑا ہوگیا ….. اسی وقت طے ہوگیا!! …. امام النبیاء ہے ہمارا نبی …… امت لہک لہک کر پڑھتی رہی …….. امام النبیاء ہے ہمارا نبی …….. جا توعرش پہ رہے تھے . سفر تو معراج کا تھا کیوں؟؟ سفر اسری کا ذکر کرکے قران نے چھوڑ دیا ۔ امت کو معراج یاد رہی …. افسوس! القصی بھول گئی “ہم نے اپنے ایک بندے کو مسجد الحرام سے مسبد القصا تک سفر کرایا ،جہاں کے ماجول میں ہم نے برکت دی ہوئی ہے”سورۃ بنی اسرائیل آیت ١ :

پھر کہا “اللہ سب سننے اور جاننے والا ہے”تم سمجھ رہے ہو یہ معصوموں کا قتل عام ہمارے علم میں نہیں میں!!سمیع و علیم ہوں سورۃ کا نام بنی اسرائیل ہی رکھامانتے نہیں ہیں نہ بغض رکھنے والی قوم حجت باز اللہ نے کہا سب سے زیادہ ان کو جینے کا حریص پاوگے … پہلی آیت ہی میں بتادیاسفر بھی ہم نے کرایا ۔۔۔۔۔۔۔ برکت بھی ہم نے دی ہم نے ہی امامت کا منصب دیانبی کو بھی امت کو بھی ۔۔۔۔۔۔ اب کوئی بنی اسرائیل کی ہاں میں ہاں نہ ملانے لگے مسلمانوں کا بیت الحرام اور یہودیوں کا بیت المقدس نہیں ،بیت الحرام میں امامت سے پہلے بیت المقدس میں امامت کروائی وہ بھی تمام انبیاء کی ۔۔۔۔۔۔ اگر بیت المقدس ہمارانہیں تو امامت کا نغمہ کیسے پڑھیں گےالقدس لنا ، وہ تو ہے ہی ہمارامعراج سے پہلے وہیں لے گیا تھا وہ واپسی پہ بھی پہلے وہیں ابوجہل نے آسمانوں کی نشانی نہیں پوچھی تھی وہ تو القدس کے در ودیوار پوچھ رہا تھاواقعی وہاں تک لے گیا وہ روح الامین آپ کو ؟ کیسا تھا دروازہ ؟ کبھی دیکھا بھی ہے القصی ؟ آپ سب ایسے سنا رہے تھے گویا سامنے کردیا گیا ہو ایک بار پھر ایسا تھا ۔۔۔ایسا تھا … استہزاء اڑانے والے جپ جاپ نکل گئے پھر۔۔۔۔بیس بائس سال گزرے ہونگے بنی اسرائیل کے حاکم وقت بیت المقدس کی فصیل پہ پیوند لگے لباس پہنے ایک حکمران کے منتظر تھے جو آئے اور ان سے بیت المقدس کی چابیاں لے جائے آنے والے عمر بن خطاب تھے ایمان ،حق کی پہجان اور استقلال چاہیے بس ۔۔۔۔۔۔۔۔ بیت المقدس کا فیصلہ تو ہوچکا نبی بھی امام امت بھی امام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم ہی امام اور ہم ہی مقتدی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !کہ امام النبیاء ہے ہمارا نبی

Add Comment

Click here to post a comment