Home » العیاش اور مسلم نوجوان – غزالہ عزیز
عالم اسلام

العیاش اور مسلم نوجوان – غزالہ عزیز

ارضِ فلسطین دُنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے عقیدت کا مرکز ہے۔ اس کی پہلی وجہ قبلہ اوّل کی یہاں موجودگی ہے۔ پھر رسول اللہؐ کے سفر معراج کے حوالے سے بھی اِسے انتہائی تقدس حاصل ہے۔ ارضِ فلسطین کو ارضِ مقدسہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہاں بہت سے انبیائؑ کی قبور اور آثار موجود ہیں۔ صحابہ کرامؓ کی بھی ایک بڑی تعداد یہاں آسودہ خاک ہے۔

مسجد اقصیٰ کے ساتھ سیّدنا عمرؓ بن خطاب اور صلاح الدین ایوبی کا نام بھی جڑا ہے۔ قرآن پاک میں اس کا تذکرہ موجود ہے۔ فلسطین کا محل وقوع ایشیا کے جنوب مغربی خطے میں واقع ہے۔ اس کے شمال میں لبنان، شمال مشرق میں شام ، مشرق میں اردن ، جنوب میں بحیرہ قلزم، جنوب مغرب میں مصر کا سینا کا علاقہ اور مغرب میں بحیرہ روم واقع ہے۔ اس سرزمین کی بیش تر آبادی اسلام کی آمد کے ساتھ ہی مشرف بااسلام ہوئی اور 1917ء تک یہ علاقہ یکے بعد دیگرے تشکیل پانے والی اسلامی سلطنتوں کا حصہ رہا۔ 1917ء وہ بدقسمت سال تھا کہ جب عثمانی سلطنت کا خاتمہ ہوا اور اُس کی جگہ برطانوی اثر و رسوخ قائم ہوا۔ اُس ہی نے اُس سازش کا بیج بویا جس کا مقصد فلسطین کو یہودیوں کا گھر بنانا تھا۔ برطانیہ کی اس سلسلے میں پشت پناہی امریکا نے کی جو وہ آج تک کررہا ہے۔ اس سازش کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہودی طاقتیں فلسطین کے 77 فی صد علاقے پر قبضہ کرکے اسرائیلی ریاست بنا کر سارے علاقے کی مالک بن بیٹھیں۔ 1967ء میں عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل نے نہ صرف فلسطین کے پورے علاقے پر قبضہ کیا بلکہ شام، لبنان اور مصر کے کچھ علاقے بھی اپنے زیر قبضہ کرلیے۔

اس کی بنیادی وجہ عربوں کی نااتفاقی اور اپنے ذاتی مقاصد اور اقتدار کے لیے اجتماعی مقاصد کو نظر انداز کرنے کی پالیسی تھی۔ برطانیہ نے جاتے جاتے پورے عرب کو چھوٹے چھوٹے ملکوں میں بانٹ کر تقسیم کردیا تھا جس کا مقصد یہی تھا کہ ذاتی اقتدار کے لیے یہ نئے بادشاہ آپس میں لڑتے رہیں۔ لڑائو اور حکومت کرو۔ برطانیہ کا اصول تھا جس کو بعد میں امریکا نے اپنالیا۔ جس کے ذریعے اسرائیل کو طاقتور بنایا گیا۔ صدیوں سے رہنے والے فلسطینیوں کو گھروں سے نکال باہر کیا گیا، اُن کے گھروں، باغات اور جائدادوں پر یہودیوں نے طاقت کے ذریعے قبضہ کرلیا۔ اسرائیل کے قیام کا منصوبہ برطانیہ نے بنایا، اس سے پہلے یہودی وہاں ایک مختصر اقلیت کے طور پر آباد تھے اور اُن کے ساتھ مساوی سلوک کیا جاتا تھا۔ مسلمان حکومتوں نے انہیں اہل کتاب کے طور پر تسلیم کیا تھا۔ اُن کی سلطنتوں کے ادوار میں یہودی اور عیسائی مسلمانوں کے ساتھ برابری کی سطح پر رہتے تھے۔ پھر امریکا اور برطانیہ کی پشت پناہی سے فلسطینیوں کی سرزمین پر اسرائیل کی ریاست بنادی گئی۔ ’’یوم نکبت‘‘ فلسطینیوں کے لیے برپا کردیا گیا۔ عربی میں نکبت کا مفہوم ’’قیامت کبریٰ‘‘ کا ہے۔

فلسطینی عوام اس دن کو 1948-1947 میں 7 لاکھ 50 ہزار فلسطینیوں کو اُن کے وطن ان کے گھروں سے قوت کے استعمال کے ذریعے جلاوطن، بے گناہوں کو قتل کرنے اور ان کی زمینوں، جائدادوں اور باغات پر قبضہ کرکے اُسے اسرائیل بنا ڈالنے کے موقع کے طور پر مناتے ہیں۔ اس دن کو منانے کے لیے 15 مئی کا دن مقرر کیا گیا ہے۔ یہ وہ دن ہے جس دن اسرائیل نے اپنی آزادی کا اعلان کیا تھا۔ یہ کام اسرائیل ہر کچھ دنوں کے بعد کرتا ہے اور امریکا اور برطانیہ اس کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ یہی کام رمضان کے متبرک ماہ میں اس دفعہ شیخ جراح کے فلسطینیوں کے ساتھ کیا جارہا تھا اور اسرائیلی عدالتیں، حکومتیں جرائم پر پردہ ڈال کر فلسطینیوں کے خلاف فیصلے صادر کررہی تھیں۔ ماہ رمضان کے آخری جمعہ کے دن اسرائیلی فوج نے نمازیوں پر تشدد اور فائرنگ کی، 200 سے زیادہ نمازی زخمی ہوگئے اور ساتھ ہی اسرائیل نے غزہ پر بمباری شروع کردی، ننھے معصوم بچے، عورتیں اور بے گناہ لوگ اس کا شکار ہوئے، گھروں اور رہائشی بلڈنگوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہاں تک کہ اخبار کے دفاتر پر حملے کیے گئے، تاکہ میڈیا کا منہ بند کیا جاسکے۔ اس ظلم کے خلاف اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کا عسکری ونگ عز الدین القسام شہید بریگیڈ حرکت میں آیا اور پھر اسرائیلیوں کی خوف سے حالت خراب ہوگئی۔

القسام کے کمانڈر کے حکم پر اسرائیل کے رامون ہوائی اڈے پر ’’العیاش‘‘ راکٹ داغے گئے، ان راکٹوں کے استعمال کے بعد اسرائیل نے اپنے اہم ترین ہوائی اڈے بن گوریان سے پروازیں معطل کردیں۔ ’’العیاش‘‘ راکٹ القسام بریگیڈ کے کمانڈر یحییٰ العیاش کی یاد میں تیار کیے گئے ہیں۔ العیاش کی بیوہ نے اپنے شوہر کے نام سے راکٹ کی تیاری کو باعث فخر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات فلسطینی قوم کے لیے باعث فخر ہے کہ حماس نے اسرائیل کے رامون جیسے دور افتادہ ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔ یعنی اب پورے اسرائیل (حقیقت میں فلسطین) میں کسی بھی مقام کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ القسام کے شہید کمانڈر العیاش نے اپنی زندگی میں صہیونیوں کی نیندیں حرام کردی تھیں، آج اُن کی شہادت کے کئی سال بعد اُن کے نام سے تیار ہونے والے راکٹ نے بھی آج صہیونیوں کی نیندیں حرام کررہی ہیں۔ سچ یہ ہے کہ مسلمان نوجوان آج العیاش کے جذبے اور بہادری کو رشک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ اُن کے دل جذبہ جہاد کے جوش سے بھرے ہوئے ہیں۔ ضرورت صرف اتنی ہے کہ مسلم ممالک کی حکومتیں اپنے نوجوانوں کی جنگی تربیت کریں۔ اُن کے جذبہ ٔ جہاد کی طاقت کو مسلمانوں کی طاقت بنائیں اور متحد ہو کر دنیا میں باعزت مقام و مرتبہ حاصل کریں۔

Add Comment

Click here to post a comment