ھم یورپ سے یوں نمٹا کرتے تھے ( تاریغ اسلام )




اگست کی آخری تاریخیں ہیں اورسن 1526 عیسوی ھے! مسلمان اپنے خلیفہ سلیمان القانونی کی قیادت میں “متحدہ یورپ” کی افواج کو موھاکس کے معرکہ میں شکستِ فاش سے دوچار کرتے ھیں، یہ معرکہ تاریخ کے ان چند گنے چنے بڑے معرکوں میں سے ایک ھے کہ جو نہایت تیزی سے اختتام پذیر ھوے۔ سلطان بلغراد کو فتح کرچکے تھے۔اور تاریخی دشمن کہ جسکی نمایندگی اَسٹریا کے شاھی خاندان ھاپسبرغ کا شہنشاہ کارلوس پنجم کررھا تھا اسکی قیادت کو سواے فرانس کے تمام مغربی یورپ نے قبول کرلیا تھا، ساتھ ھی ساتھ ھنگری اوراَسٹریا کے شاھی خاندانوں کے بیچ ھونے والی متعدد شادیاں یورپ کے دل میں انکے اثر نفوذ کو خاصابڑھاچکی تھیں۔ اس سارے منظر نامہ نے فرانس کے بادشاہ فرانسو اول کو مجبور کیا کہ وہ سلیمان القانونی سے مدد طلب کرے اور انکے ساتھ اتحاد قایم کرلے۔
سلطان کو بھی ھاپسبرغ کی اَل سے کچھ حساب چکانے تھے، افریقہ کے ساحلوں پہ خیر الدین بربروسا کے بحری بیڑوں کیساتھ انکی طویل جھڑپیں چلی اَرھی تھیں ساتھ ھی سلطان کو لگا کہ اب اسٹریا کے درالحکومت ویانا کیجانب بھی پیش قدمی کا موقع ھاتھ لگ سکتا ھے اور ویانا کے راستے میں واحد رکاوٹ صرف ھنگری کی حکومت رھی تھی کہ جو ویانا کی حلیف تھی۔ سلطان نے ارادہ کرلیا تھا کہ اب اس رکاوٹ کو بھی ھٹاکر دم لینگے
وزیر اعظم ابراھیم پاشا بھی ھمراہی تھے، ایک لشکرِجرار لیکر سلطان استنبول سے نکلے ھیں، کئ کئ سو توپیں ساتھ تھیں پہلےعثمانی زیرِ تسلط بلغراد پہنچے پہر وھاں سے دریاے دنوب کو پار کیا یھانتک کہ ھنگری میں وادی موھاکس میں جاکرفروکش ھوئے۔یہان کنگ لویس دوم کی قیادت میں متحدہ یورپ کی افواج سے سامنا ھوا جسمیں جرمنی ھالینڈ چیک اور پوپ کی سپاہ بھی شامل تھیں۔ انتیس اگست کو معرکہ برپا ھوا، فقط ڈیڑھ گھنٹہ کی مختصر سی لڑائ ھوئی لویس دوم بڑے بڑے سردار اور قریب بیس ھزار یورپی جھنم واصل ھوے باقیوں کی اکثریت قیدی بنالی گئ۔
وہ دن تھا کہ ھنگری کی سلطنت یوں برباد ھوئ کہ پہر پنپ ناسکی . سلطان یورپ کے دل کو چیرتے بڑھتے چلے گیے یھانتک کہ ھنگری کے دارالحکومت بوڈاپسٹ جاپہنچے جہاں فرانس اور وینیس کے سفیر سلطان کے استقبال اور مبارک دینے کو موجودتھے سلطان نے وھاں اپنا کٹھ پتلی بادشاہ مقرر کیا عید الاضحی کے ایام تھے شہر کے بیچوں بیچ سلطان نے عید کی مبارکیں وصول کیں اور فتحِ مبین کے ساتھ واپس استنبول کو لوٹے۔
وہ دن ھنگری کیلیے بطور یورپی طاقت اَخری ثابت ھوا اھلیانِ ھنگری اَج بھی اس دن کی مثال دیتے ھیں چنانچہ اگر کسی کا دن نہایت برا گزرے تووہ یوں کہتا ھے کہ اَج کا دن تو موھاکس کے دن سے بھی بدتر تھا!

اپنا تبصرہ بھیجیں