ایغور باشندوں کی ترکی میں پناہ کی کوشش




انقرہ : چین میں ظلم و ستم کا شکار ایغور مسلم اقلیتی برادری کے کچھ افراد فرار ہو کر ترکی پہنچنے میں کامیاب تو ہو گئے لیکن وہاں بھی انہیں زندگی بسر کرنے میں متعدد مشکلات کا سامنا ہے ۔ گھر والوں سے دور یہ لوگ ایک مسلسل کرب میں ہیں . استنبول میں مقیم خدیجہ احمد نے ایغور زبان میں ایک ویڈیو کلپ میں اپنے شوہر کو دیکھا، تو وہ دم بخود رہ گئیں ۔ یہ چینی پراپیگنڈے پر مبنی ویڈیو تھی۔ خدیجہ گزشتہ دو برسوں سے اپنے شوہر کے بارے میں لاعلم تھیں کہ وہ کہاں ہیں ۔ ان کے شوہر چینی صوبے سنکیانگ میں لاپتہ ہو گئے تھے۔خدیجہ نے ویڈیو دکھاتے ہوئے اپنے شوہر کے بارے میں بتایا، ’’ان کا سر منڈوا دیا گیا ہے۔ ۔ ۔ نیوز کاسٹر کے مطابق انہیں چین کے ایک وسطی شہر میں منتقل کر دیا گیا ہے۔‘‘ اپنے شوہر کی غیرقانونی گرفتاری کے باوجود خدیجہ نے کہا کہ وہ خوش ہیں کہ ان کے شوہر زندہ ہیں۔خدیجہ کے شوہر کی طرح لاکھوں ایغور نسل کے مسلمان چین میں حراستی کیمپوں میں بند ہیں۔ کچھ ایغور گھرانوں نے تو لاپتہ ہونے والے اپنے رشتہ داروں کو آج تک دوبارہ دیکھا بھی نہیں۔ایغور مسلمان چینی صوبے سنکیانگ کی سب سے بڑی اقلیت ہیں ۔
اس برادری کو کئی دہائیوں سے مبینہ طور پر ریاستی سطح پر ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ ایغوروں کا کہنا ہے کہ مذہب ، زبان اور نسل کی بنیاد پر انہیں امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں بین الاقوامی برادری کی طرف سے بھی کوئی مربوط ردعمل سامنے نہیں آ سکا ۔ گزشتہ دو برسوں سے چینی حکام نے ایغوروں کے خلاف اپنے کریک ڈاؤن میں سختی پیدا کر دی ہے ۔ چین میں مقیم ایغور باشندے اب اپنے بیرون ملک آباد رشتہ داروں سے بھی کوئی رابطہ نہیں کر سکتے۔ خدیجہ اور ان کی دو بیٹیاں سن دو ہزار سولہ میں فرار ہو کر ترکی پہنچنے میں کامیاب ہو گئی تھیں ۔ سن دو ہزار پندرہ میں خدیجہ کے شوہر کا پاسپورٹ ضبط جبکہ بعد ازاں انہیں گرفتار بھی کر لیا گیا تھا ۔ ایک اندازے کے مطابق ترکی میں تیس ہزار تا پچاس ہزار ایغور نسل کے بانشدے سکونت پذیر ہیں ۔ یہ بات اہم ہے کہ تاریخی طور پر ایغور دراصل ترک نسل کے افراد ہیں ، جن کے کلچر اور زبان میں بھی مماثلتیں پائی جاتی ہیں ۔ ترکی میں مقیم ان افراد کا کہنا ہے کہ وہ اپنی نئی زندگی شروع کرنا چاہتے ہیں لیکن ماضی کی خوفناک یادیں اور رشتہ داروں کے غم انہیں پرسکون زندگی گزارنے سے محروم رکھے ہوئے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں