اخوان المسلمون کے قیدیوں کی رہائی تک مصر سے بات چیت نہیں ہوگی – رجب طیب اردگان




ترک صدررجب طیب اردگان نے اخوان المسلمون کے 9 کارکنوں کو سزائے موت دینے پر مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اخوان المسلمون کے قیدیوں کی رہائی تک مصر سے بات چیت نہیں ہوگی . غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک انٹرویو میں ترک صدر صدر طیب اردگان نے پراسیکیوٹر جنرل کے قتل کے جھوٹے الزام میں اخوان المسلمون کے
9 نوجوانوں کو سزائے موت دینے پر احتجاج کرتے ہوئے مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے. ترک صدر نے کہا کہ 9 نوجوانوں کا عدالتی قتل کسی طور بھی قابل قبول نہیں، مصر میں عدالتیں، انتخابات اور انصاف آزاد وشفاف نہیں بلکہ طاقت کے ایک مرکز کی مرہون منت ہیں ، اسی وجہ سے میں مصر کے مطلق العنان صدر سے بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتا. صدر طیب اردگان نے کہا کہ ترکی سے برادرانہ اور خوشگوار تعلقات کے لیے مصر کی قابض حکومت کو اخوان المسلمون کو امن پسند جماعت قبول کرتے ہوئے جماعت کے تمام اسیروں کو رہا کرنا ہوگا، صرف اسی صورت میں مصری صدر سے بات چیت پر آماہ ہوسکتا ہوں.
واضح رہے کہ ترکی اور مصر کے درمیان تعلقات میں 2013 میں فوجی بغاوت میں صدر مرسی کا تختہ الٹنے کے بعد سے کشیدگی قائم ہے. مصر میں اسیر سابق صدر محمد مرسی کے ترک صدر کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں.مصر کی عدالت نے سابق صدر محمد مرسی اور اخوان المسلمین کے سربراہ محمد بدیع اور دیگر 15 ارکان کی عمرقید منسوخ کرتے ہوئے مقدمہ کی ازسرنو سماعت کا حکم دیا ہے . تمام ملزمان پر جاسوسی کرنے، دہشت گردی کیلئے مالیہ فراہم کرنے اور قومی سلامتی کے رازوں کو افشا کرنے کے الزامات ہیں.
مصر کی ایک عدالت نے قطر کے لیے جاسوسی کے الزام میں ملک کے سابق صدر محمد مرسی کو سنائی جانے والی عمر قید کی سزا کو کالعدم قرار دے دیا ہے. سابق مصری صدر کے مقدمات کی پیروی کرنے والی وکلا کمیٹی نے ان کی عمر قید کی سزاکے خلاف اپیل کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کر رکھی تھی. اس سے قبل مصر کی ایک عدالت نے اخوان المسلمین کے سینیئر رہنماوں خیرت الشاطر اور محمد بدیع سمیت سولہ افراد کو عمرقید کی سزا سنائی تھی جن میں الجزیرہ ٹیلی ویژن کے دو کارکن بھی شامل تھے .
قاہرہ کی اپیل کورٹ نے چند روز قبل محمد بدیع، سمیت اخوان المسلمین کے دیگر رہنمامں کو سنائی جانے والی عمر قید کی سزا کو بھی کالعدم قرار دے دیا تھا. کچھ عرصہ قبل مصر کی سپریم کورٹ نے پولیس چیک پوسٹ پر حملے سے متعلق کیس میں چودہ افراد کو سنائی جانے والی سزائے موت کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا تھا . واضح رہے کہ محمد مرسی کو ریاستی راز افشاں کرنے اور حساس معلومات قطر کو فراہم کرنے کے جرم میں 40 سال قید کی سزا سنائی تھی . محمد مرسی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اُن کے خلاف مختلف مقدمات کی تحقیقات فوجی بغاوت کو قانونی قرار شکل دینے کی ایک کوشش ہے .

اپنا تبصرہ بھیجیں