بھارت او آئی سی میں کیسے شامل ہوا؟ _ حماد الرحمن




آپ حیران ہو رہے ہوں گے کہ 25 ستمبر 1969 سے لے کر 28 فروری 2019 تک نصف صدی بھارت کو او آئی سی یعنی آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن کا ممبر کیوں نہیں بنایا گیا۔ یاد رہے کہ او آئی سی سینتالیس مسلم اکثریتی آباد والے ملکوں کی تنظیم ہے گو اب اس میں چند مسلم اقلیتی ممالک کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ بھارت سرتوڑ کوشش کرتا رہا کہ اسے او آئی سی کا ممبر بنایا جائے کیونکہ ادھر کروڑوں مسلمان رہتے ہیں ۔ پاکستان نے اس بنیاد پر مخالفت کی کہ بھارت کی کل آبادی کا محض چودہ فیصد مسلمان ہے، ہندوستان ایک ہندو آبادی والا سیکولر ملک ہے، وہ اسلامی کہاں سے ہو گیا۔ اسلامی ملک تو پاکستان ہے، جہاں نہ صرف 96 فیصد آبادی مسلمان ہے بلکہ اس کا دستور اور نام تک مسلمان ہے۔ بھارت کی یہ دلیل کام نہیں آئی کہ 1969 کے بعد کی توسیع میں مسلم اقلیتی افریقی ممالک کو بھی او آئی سی کا ممبر بنایا گیا ہے، اسے بھی بنایا جائے۔
اب یہ پہلی بار ہوا ہے کہ امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زید النہیان کی دعوت پر بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو بطور مہمان خصوصی او آئی سی میں بلایا گیا ہے حالانکہ بھارت نہ تو او آئی سی کا ممبر ہے اور نہ ہی مبصر۔ سنہ 1969 میں پہلی سربراہی میٹنگ میں بھارتی صدر فخر الدین علی احمد کو سعودی عرب کی تجویز پر شرکت کی دعوت دی گئی تھِی مگر پاکستان کے واویلا مچانے پر دعوت واپس لے لی گئی اور بھارتی وفد کو آدھے راستے سے ہی واپس پلٹنا پڑ گیا۔
پاکستان نے واویلا تو اس مرتبہ بھی بہت مچایا تھا اور دھمکی دی تھی کہ اگر بھارت کو بلایا گیا تو پاکستان شرکت نہیں کرے گا۔ بہرحال پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ بھی وہی ہوا جو یوسفی کے ساتھ ہوا تھا۔
یوسفی لکھتے ہیں : اب میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ دل نے کہا، بس بہت ہو چکا۔ آؤ آج دو ٹوک فیصلہ ہو جائے۔ ”اس گھر میں اب یا تو یہ (مرغیاں) رہیں گی یا میں“۔ میں نے بپھر کر کہا۔ ان کی آنکھوں میں سچ مچ آنسو بھر آئے۔ ہراساں ہو کر کہنے لگیں ”مینہ برستے میں آپ کہاں جائیں گے؟ “
سشما سوراج کا او آئی سی میں نہایت پرتپاک اور محبت آمیز استقبال دیکھ دیکھ کر شاہ محمود قریشی بھی اب اسی سوچ میں پڑے ہوں گے کہ اس برستے مینہ میں وہ کہاں جائیں گے۔ خاص طور پر بحرینی وزیر خارجہ سے سشما کی قربتیں دیکھ دیکھ کر وہ یہی سوچ رہے ہوں گے کہ برستے مینہ کے سوا اب وہ کہاں جائیں گے۔ جس طرح بحرینی وزیر خارجہ، سشما سوراج پر قربان ہوئے جا رہے ہیں اور سشما جی ان کو بمشکل خود سے دور رکھ پا رہی ہیں، اسے دیکھ کر یہی تاثر ذہن میں ابھرتا ہے کہ سشما جی نے عزت بچا لی۔ بہرحال شاہ محمود قریشی کے متعلق ایسا کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔ وہ وہاں گئے ہی نہیں۔
انڈیا کے تعلقات ہمارے برادر مسلم ممالک سے بہت اچھے ہو چلے ہیں ۔ قطر وہ پہلا ملک تھا جس نے 2002 میں یہ تجویز پیش کی تھی کہ انڈیا کو مبصر کا رتبہ دے دیا جائے۔ پچھلے برس سابقہ مشرقی پاکستان یعنی بنگلہ دیش اور ہمارے شدید دوست ترکی نے انڈیا کی شمولیت کا مطالبہ کیا تھا۔ سعودی عرب اور امارات سے تو ظاہر ہے کہ انڈیا کے تعلقات بہت بڑھ چکے ہیں اور اب اماراتی وزیر خارجہ کی دعوت پر ہی انڈیا بغیر ممبر یا مبصر ہوئے شامل ہو کر میلہ لوٹ رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اچانک سب پاکستان کو اگنور کرتے ہوئے انڈیا پر کیوں نثار ہوئے جا رہے ہیں؟ اس اہم مسئلے کو سلجھانے کے لئے چلیں جاپان چلے چلتے ہیں۔
روایت ہے کہ جاپان میں ایک بوڑھا کسان رہا کرتا تھا جس کا اس بھری دنیا میں ایک کتے کے سوا کوئی دوسرا نہ تھا۔ وہ اپنے کتے سے بہت محبت کیا کرتا تھا۔ ایک دن کرنا خدا کا یہ ہوا کہ کتا مر گیا۔ کسان کی تو دنیا اندھیر ہو گئی۔ پھر اس نے سوچا کہ چلو اپنے اس دوست کی اس کے شایان شان تدفین کی جائے۔ وہ گاؤں ک شنٹو مندر میں گیا اور اس کے پجاری سے کہنے لگا ”کیا آپ میرے کتے کو مکمل مذہبی رسومات کے ساتھ دفن کر دیں گے؟ “ یہ سنتے ہی پجاری جی کا پارہ ہائی ہو گیا۔ غصے سے بولے ”ہم جانوروں کی مذہبی رسومات ادا نہیں کیا کرتے“۔
کسان نے روہانسا ہو کر کہا ”دنیا میں اس کے سوا میرا کوئی نہیں تھا۔ وہ بالکل میرے خاندان کے ایک فرد کی طرح تھا۔ پلیز اس کی آخری رسومات پورے مذہبی طریقے سے ادا کر دو“۔ شنٹو پجاری نہ مانا۔ کہنے لگا کہ ”ہم ایسا گناہ کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ تم ایسا کرو ساتھ والے گاؤں میں بدھ بھکشو کے پاس چلے جاؤ۔ وہ بدعقیدہ لوگ ہیں اور نہ جانے کیسے کیسے الٹے سیدھے کام کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی کر دیں تو مجھے تعجب نہیں ہو گا“۔
مایوس کسان کا چہرہ اچانک جگمگا اٹھا۔ پھر اس نے پوچھا ”آپ کا کیا خیال ہے، بدھ مندر کو ان آخری رسومات کی ادائیگی کے عیوض ایک لاکھ ین کا نذرانہ کافی ہو گا؟ “ پجاری یک دم چوکنا ہو گیا اور بولا ”تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا تھا کہ تمہارا کتا شنٹو مذہب کا پیروکار تھا اور اس وجہ سے تم اسے یہاں لائے تھے؟ “
تو صاحبو، معاملہ بس کچھ یوں ہی ہے کہ اگر ایک ملک کی صرف 14 فیصد آبادی مسلمان ہو اور باقی غیر مسلم، ملک دستوری طور پر سیکولر ہو، تو ہمارے عرب بھائی اسے پکا مسلمان ملک سمجھتے ہیں، بشرطیکہ اس ملک کے پاس ایک بڑی مارکیٹ اور چار کھرب چھبیس ارب ڈالر کا زر مبادلہ ہو۔
ایک مفکر فرما گیا ہے کہ جب بات روپے پیسے کی ہو تو سب لوگوں کا ایک ہی دین دھرم ہوتا ہے۔ اور دوسرا مفکر فرما گیا ہے کہ باپ بڑا نہ بھیا، سب سے بڑا روپیا۔ برادر مسلم ممالک نے بھی یہ سن رکھا ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں