سفاک بھارت اور تحریکِ حریت – حمیرا عنایت




معمول کے مطابق فیس بک کھولی تو ایک پوسٹ پڑی ”مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج سے مقابلے کے دوران حزب المجاہدین کے چیف کمانڈر ریاض نائکو ان کے ساتھی سمیت شہید ہو گئے“۔ جو اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ جنت نظیر وادیِ کشمیر میں ماہِ رمضان کے دوران بھی قابض بھارتی فوج کی جنونیت میں کمی نہیں آ ئی ۔
ابھی زبان سے انا للہ وانا الیہ راجعون جاری ہی ہوا تھا کہ دوسری پوسٹ پر نظر پڑی ”بھارتی میڈیابیک وقت مختلف کیفیات سے گزر رہا تھا یعنی ایک طرف بالی ووڈ اداکار (عرفان خان اور رشی کپور)کے اس دنیا سے چلے جانے کا سوگ‘دوسری طرف مقبوضہ کشمیرکےمعرکے میں مجاہدین کے ہاتھوں بھارتی تین افسروں (کرنل ،میجر جنرل،ایس او جی انچارج)اور متعدد فوجیوں کی ہلاکت کے بعد صفِ ماتم کا سماں اور تیسری جانب ایک مسلمان کمانڈر( کشمیری )کے شہید ہو جانے پر جشن بھی منا رہے تھے “۔ یہ دیکھتے ہی ان جاہلوں کی کم عقلی پر رونا آیا کہ کس چیز کی خوشیاں منا رہے ہیں اور کس چیز کا ماتم ؟۔ریاض نائکو شہادت جیسے عظیم رتبے پہ فائز ہو گیا جو یقینا خوش قسمت لوگوں کے حصے میں آتا ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں ارشادِ ربانی کا ہے کہ ”اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مت کہا کرو کہ یہ مردہ ہیں(وہ مردہ نہیں)بلکہ زندہ ہیں لیکن تمہیں(ان کی زندگی کا)شعور نہیں“۔(سورة البقرہ ۱۵۴)۔
اسی طر ح ایک اور جگہ خدائے لم یزل فرماتا ہے”اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں ،انہیں ہر گز مردہ خیال(بھی)نہ کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے حضور زندہ ہیں،انہیں (جنت کی نعمتوں کا )رزق دیا جاتا ہے“۔(سورة آلِ عمران ۱۶۹)مزید اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کو دی جانے والی نعمتوں کا بھی تفصیل سے ذکر کیا ہے ۔ اب دیکھتے ہیں ریاض نائکو کون تھا اور بھارت کیوں اس سے اتنا خوف زدہ تھا۔
ریاض نائکو پلوامہ کے علاقے بیک پورہ کا رہنے والا ایک نوجوان تھا‘ہر انسان کی طرح اس کے بھی کچھ خواب تھے مگر خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔وہ انجینئر بننے کا خواہاں تھا مگر 2010ء میں ظلم وبربریت کے خلاف آواز اٹھانے کے جرم میں جب کشمیریوں کو شہید کیا گیا تو حالات بگڑنا شروع ہو گئے اور ہنگامے پھوٹ پڑے۔2010ء میں ہی بھارت کے خلاف ”تاریخی پتھراؤتحریک “چلائی گئی جس میں کشمیر کا بچہ بچہ ہاتھ میں پتھر اٹھائے دشمن کو للکارتا اور بے خوف و خطر بکتر بند گاڑیوں اور فوجیوں پر دے مارتا۔ اس تحریک کی شدت کے ڈر سے انڈین فوج نے گرفتاریاں شروع کر دیں جس میں ریاض نائکو بھی اپنے ساتھیوں سمیت گرفتار ہوئے۔ٹارچر سیل میں ڈھائے جانے والے قیامت خیز ستم نے انجینئر بننے کا خواب بھلا کر ایک نئی راہ پر گامزن کر دیا۔وہ بھارت سے خون کی ایک ایک بوندکا حساب لینے کے لیے سر پرکفن باندھے اٹھ کھڑا ہوا۔ ریاض نائکو کے اندر ایک نئے خوا ب نے جنم لیا جس کو پایہ تکمیل تک پہچانے کے لیے دشمن پر بندوق تان لی اور پہاڑوں کو اپنا مسکن بنا لیا۔ بقول شاعرِ مشرق
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر
وہ 2012ء میں غاصب بھارتی فوج کے خلاف مسلح جدوجہد میں شامل ہوئے اور کہا جاتا ہے کہ وہ ”بوسٹر بوائے“برہان وانی کے ساتھیوں میں سے ایک تھا بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ وہ ان کا نائب تھا۔8جولائی 2016ء کو بھارتی فوج سے ایک جھڑپ میں جامِ شہادت نوش کرنے والے برہان وانی کے بعد کشمیری مزاحمت کی تاریخ میں سب سے طویل ترین مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا جس کے بعد ریاض نائکو بھارتی فوج سے برسرِ پیکار عسکری جہادی تنظیموں میں سب سے بڑی تنظیم ”حزب المجاہدین“کے چیف کمانڈر مقرر ہوا۔
اک برہان وانی کی شہادت سے ہزاروں برہان وانی بھارتی فوج کو ناکو چنے چبوانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ۔احتجاج شروع ہوا توسیکورٹی فورسز اور نوجوانوں میں تصادم ہوا اور اس دوران شہدا کی تعداد مزید بڑھ گئی اور جذبہٴِ ایمانی کم نہ ہوا۔بھارتی فوج اس ساری صورتِ حال سے ششدر رہ گئی اور یہ مزاحمت کارمردِ مجاہد(ریاض نائکو)بھارتی فورسز کے لیے دردِ سر بن گیا تو ایسے میں بھارت کو اس کے سر کی قیمت بارہ لاکھ لگانی پڑی۔
گزشتہ چار سالوں سے بھارت کو مطلوب شخص یہ نوجوان ہی تھا جس کی شہادت پر خوشیاں منائی گئیں جبکہ درحقیقت وہ ان کے ناپاک عزائم کو پورا کر کے خدا اور قوم سے کیے اپنے وعدے کو سچ کر گیامگر افسوس تم ابھی بھی وہاں کھڑے ہو ۔وہ (ریاض نائکو)اب بھی زندہ ہے اور لاکھوں مجاہدین کی صورت میں تمہارا تعاقب کیے بیٹھا ہے۔ مجھے یقین ہے کشمیر کی وادی میں بہتا لہو ان کے سیاسی رہنما سید علی گیلانی کے جذبہِ حیریت کوکسی صورت مانند نہ پڑنے دے گا۔ اُن کی جماعت ”تحریک حریت “آج بھی دنیا کو پیغام دیتی ہے کہ سفاک بھارت کی شرمناک کاروائیوں کے باجود ہمارے دلوں سے ایمان کی طاقت اور حرارت کو کم نہیں کیا جاسکا۔وہ دن دور نہیں جب ہماری سرزمین پر آزادی کا پرچم لہرایا جائے گا اور دشمن ہمیشہ ذلیل و خوار ہوتا رہے گا۔ یہ سب اس صورت میں ممکن ہے جب عالمِ اسلام کے رہنما متحد ہو کر دنیا کے ہر بڑے فورم پر مسئلہ کشمیر کا اٹھائیں اور بھارت کو اس بات کا یقین دلائیں کہ کشمیری عوام کو مسلم امہ کسی صورت بھی تنہا نہیں چھوڑے گی۔
بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی سیکولر پاور کہتا ہے مگر اسے اس بات کا احساس نہیں کہ سیکولر ممالک میں تما م مذاہب اور مسالک کا احترام کیا جاتا ہے اور عالمی فورم پر بھی امریکہ اس مسئلے کو زیر بحث لائے۔کتنی عجیب بات ہے کہ پاکستان نے جب اس مسئلے کو عالمی فورم پر اٹھانے کے لیے قرار داد جمع کروائی تھی تو پاکستان کا ساتھ دینے والے محض چند ممالک سامنے آئے تھے حالانکہ قرارداد کی منظوری کے لیے پاکستان کو چودہ ووٹ درکار تھے جو آسانی سے حاصل ہو سکتے تھے اگر مسلم ممالک یکجا ہوتے مگر ایسا نہ ہوا۔
یہ جان کر شدید حیرت ہوگی کی اس فورم پر سعودی عر ب نے بھی پاکستانیوں اور کشمیریوں کو تنہا چھوڑدیا۔جب دنیا کا سب سے اہم مسلم ملک ہی بھارتی منڈی میں اپنی تجارت کو ترجیح دے گا تو مسئلہ کشمیر کیسے حل ہو سکتا ہے؟۔
یہی وجہ ہے کہ بھارت ہمیشہ سے یہ سمجھتا آ رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر مسلمانوں کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا کیونکہ مسلمان ممالک ہی آپس میں متحد نہیں ہیں۔وزیر اعظم عمران خان جو خود کشمیر کا سفیر کہتے ہیں مگر اس معاملے کو اس طرح نہیں اٹھایا گیا جیسے کشمیری عوام کی خواہشات ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں