Dr Zia Ur Rehman Azmi |






#ShaikhulHadees #Madeena #JannatulBaqee

#hadees #hadith #ahadith #islam #deen #history

_______|—————- Social Media —————–|______

FaceBook: https://Facebook.com/AsraGhauri
https://Facebook.com/NoukeQalam
Instagram: https://Instagram.com/AsraGhauri
Twitter: https://Twitter.com/AsraGhauri
Web : https://www.noukeqalam.com/

source

15 تبصرے “Dr Zia Ur Rehman Azmi |

  1. وجعلنا السماء سقفا محفوظا و هم عن آياتها معرضون o    ( ا الأنبياء : ٣٢)

    اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنایا مگر یہ ہیں کہ اس کی نشانیوں سے اعراض  کیے ہوئے ہیں ۔         

    آسمان میں اللہ جل شانہ نے ایک حفاظتی نظام بنایا ہے جو خلا سے ہونے والے حملوں سے ہماری حفاظت کرتا ہے ۔ مثال کے طورپر یہ شمسی طوفان ( Solar Storm) اور Asteroids کے حملے سے ہماری حفاظت کرتا ہے ، اگر یہ " سقف محفوظ" (Magnetic Shields ) نہ ہوں تو شمسی طوفان اور خلائی حملے ہمارا نام و نشان مٹا کر رکھ دیں گے     

    زمین کی  بھی ایک Magnetic Field ہے 
    جو ہماری حفاظت کرتی ہے  ۔ یہ حفاظتی  نظام ہمارے پورے Glaxy Milky Way کو ایک چادر کی طرح اپنے اندر لیے ہوئے ہے ۔                                                          
    موڈرن سائنس کی زبان میں اس "محفوظ چھت" کو  Magnetic Fields كہتے ہیں ۔ یہ صرف زمین ہی مین نہین بلکہ نظام شمسی اور  ہمارے Milky Way Galaxy  پرچھائی ہوئی ہے ۔  اس حفاظتی نظام کے بغیر ہم  اس زمین میں زندہ نہیں رہ سکتے 

    یہ اتنا حیرت انگیز نظام ہے کہ عقل حیران و ششدر رہ جاتی ہے  ۔ ہم جدید خلائی تحقیقات کے بغیر قرآن میں بیان کردہ
    " محفوظ چھت" کی حقیقت اور اہمیت کو نہیں سمجھ سکتے ہیں ۔  اللہ جل شانہ نے یہاں " السماء" کا ذکر کیا ہے ۔ جدید تحقیقات کی روشنی میں ہم اس  کی  وسعت کو سمجھ سکتے ہیں ۔ 

    یہ اس بارے میں مختصر تحریر ہے ۔ اگر توفیق ہوئی تو تھوڑی تفصیل سے اس پر لکھوں گا ۔        إن شاء الله                 

    DR.MOHAMMAD LAEEQUE NADVI 
    Ph.D. (Arabic Lit.) M.A. Arabic Lit.+Islamic Studies                      
                            Directorr                       
    Amena Institute of Islamic Studies & Analysis
    A Global & Universal Research  Institute,              
    [email protected]gmail.com

  2. ضیاء الرحمن اعظمی
                          کا مختصر تعارف

    ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی کا غائبانہ تعارف ندوہ العلماء  میں میرے  عزیز ساتھی احمد مجتبی مدنی کے ذریعہ ہوا ۔ وہ مدینہ یونیورسیٹی مین ڈاکٹر صاحب کے شاگرد اور تحقیقاتی کام میں ان کے معاونین میں تھے                                                        
    ڈاکٹر ضیاء کا تعلق ايک ہندو گھرانے سے تھا ۔ ان کا ہندوانہ نام ' با نکے رام' تھا ۔ مولانا مودودی رحمہ کی ایک کتاب ' اسلام دین حق ' کا ہندی ترجمہ ان کے اسلام لانے کا سبب ہوا ۔ اس کتاب میں مولانا مودودی نے قرآن کریم کی آیہ کریم
             إن الدين عند الله الإسلام
                              ( آل عمران : ١٨)            الله كے  نزدیک دین صرف اسلام ہے 

    کی روشنی میں اسلام کی حقانیت اور اللہ کے نزدیک پسندیدہ دین ہونے پر اچھی بحث کی ہے ۔ انہون نے جب یہ پڑھا تو انہیں  یہ بات عجیب سی لگی کہ یہ کیا بات ہے کہ صرف اسلام ہی صحیح دین ہے ! کیا ہندو دھرم صحیح اور حق مذہب نہیں ہے؟ ان کے اندر مخالفانہ جذبہ پیدا ہوا اور اس کے رد مین لکھنے کا ارادہ کیا ۔   

    وہ اس موضوع کا مزید مطالعہ اور اہل علم سے رجوع کرنا شروع کردیا ۔ پنڈتوں اور ہندو دھرم کے جاننے والوں سے رجوع کیا لیکن ان سے تسلی بخش جواب نہیں ملا ۔ مسلم اہل علم سے بھی اس سلسلے میں رجوع کرتے رہے آہستہ آہستہ ان پر یہ حقیقت واضح ہوتی چلی گئی کہ یہ صرف دعوی ہی نہیں بلکہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے ۔ اللہ جل شانہ نے توفیق دی اور انہیں ١٩٦٠ ميں ١٦ سال کی عمر میں اسلام قبول کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ۔
            ایں سعادت بزور بازو  نیست
            تا نہ بخشد  خدائے  بخشندہ 

     اسلام قبول کرنے کے بعد انہیں  ہندو معاشرہ میں ابتلاء اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا اس وجہ سے وہ تامل ناڈو چلے گئے جہاں دار السلام  عمر آباد کے ذمے دار ان کے ساتھ ہمدردی سے پیش آئے اور وہاں ان کا داخلہ ہوگیا ۔ انہوں نے وہاں اپنی تعلیم مکمل کی اور خوش نصیبی کی بات یہ ہوئی کہ مزید تعلیم حاصل کرنے  کے لیے انہین مدینہ یونیورسیٹی جانے کا موقع ملا ۔ بلاشبہ ایک نو مسلم طالب علم کے لیے یہ ایک بہت بڑی سعادت کی بات تھی ۔ مدینہ یونیورسٹی سے انہون نے چار سال میں    علم الشریعہ میں بی اے کیا ۔    
                                                      
    اس کے بعد جامعہ ام القری مکہ مکرمہ میں حدیث مین ایم اے میں داخلہ مل گیا ۔ ایم اے مین آپ کے رسالے کا موضوع تھا            ' ابوہریرہ فی ضوء مرویاتہ ' ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سب زیادہ احادیث مروی ہیں ۔ مستشرقین اور منکرین احادیث نے ان  پر تنقید اور سخت اعتراضات کیے ان کا مقصد احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی حیثیت اور اس کی اہمیت  کو مجروح کرنا تھا ۔ اس لیے  ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ پر تیشہ چلانا ضروری سمجھا گیا ۔ 

    اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحب کا کام اور ان کی تحقیق  بہت اچھی اور منفرد نوعیت کی ہے ۔ انہوں نے مستشرقین کو ان کے مخالفانہ اور معاندانہ رویہ اختیار پر دندان شکن جواب دیا ہے ۔ انہوں واضح کیا کہ ان سے زیادہ سے زیادہ دو ہزار احادیث مروی ہیں ۔ وہ ہمہ وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا کرتے تھے ۔ اس لیے اتنی تعداد میں احادیث کی روایت ایک عام اور بالکل قابل قبول بات ہے ۔  اس میں استعجاب اور چراغ پا ہو نے کی کوئی بات نہیں ہے ۔ ان کے ایم اے کے اس رسالہ کو شرف قبولیت حاصل ہوئی ، اسے بہت پسند کیا گیا  اس کی تعریف و توصیف کی گئی ۔ 

    ایم اے کے بعد بھی انہیں علمی سفر جاری رکھنے کا موقع ملا اور مصر کی ازہر یونیورسیٹی میں پی ایچ ڈی میں داخلہ مل گیا ۔ان کے مقالے (Theses)  کا موضوع  ' نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے ' تھا ۔ یہ محمد بن فرج المالکی کی کتاب ' اقضية الرسول' صلى الله عليه وسلم ، جس میں انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کو جمع کردیا تھا ، کی تحقیق و تخریج تھی ۔ ڈاکٹر صاحب نے اس میں مزید احادیث  کا اضافہ کیا ہے ۔                                                                                    عدالتی فیصلوں کی تاریخ میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے تاریخی اہمیت کے حامل ہیں ۔  
    In 1935 the US Supreme Court honoured the Prophet Mohammad as one of the Greatest Law Givers 
    in the History of the World.    
     اس مقالہ میں ڈاکٹر صاحب نے موجودہ دور کے اس قسم کے عدالتی فیصلوں سے تقابل کیا ہے یا نہیں اس کا علم نہیں ۔اگر ایسا ہوتا تو اس مقالے کی اہمیت اور افادیت بڑھ جاتی ۔ اگر اس کا انگریزی میں ترجمہ ہوجائے تو انگریزی دان طبقہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   کے فیصلے کو جاننے کا موقع مل سکے گا  اور عصر حاضر میں ان کے فیصلوں کی معنویت بھی سمجھ میں آئے گی ۔ یہاں تک تو ڈاکٹر صاحب کے علمی سفر کا ذکر ہوا ۔
    ١٩٧٩ میں انہون نے مدینہ یونیورسٹی میں حدیث کے استاذ کی حیثیت سے ملازمت اختیار کرلی اور پچیس سال تک وہاں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے ۔ وہاں سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد وہ صحیح احادیث کو جمع کرنے کے اپنے پروجیکٹ میں لگ گئے ۔ ان کے پیش نظر یہ تھا کہ صحیح احادیث کا  ایک مجموعہ تیار کردیا جائے ۔ اس کام کی ان کے  نزدیک بہت زیادہ اہمیت تھی اس لیے وہ اس مین لگ گئے اور یہ کام انہوں نے دس سال میں مکمل کرلیا ۔

    DR.MOHAMMAD LAEEQUE NADVI
    Ph.D. (Arabic Lit.) M.A. Arabic Lit.+Islamic Studies)
                            Directorr                        
    Amena Institute of Islamic Studies & Analysis
    A Global & Universal Institute,          
    [email protected] 

    Thanks

  3. ڈاکٹر صاحب کی تصنیفات اور تالیفات :

    ١ – ابو هريرة في ضوء مروياته  ٨٠٠ صفحات
    ٢ – نبى صلى الله عليه وسلم کے فیصلے  ڈاکٹریٹ کا تحقیقی مقالہ ۔ 
    ٣ – امام بیہقی کی ' المدخل إلى السنن الكبرى ' کی تحقیق ۔ یہ کتاب محقق نے اپنے شاگرد احمد مجتبی مدنی کے ذریعہ بطور ہدیہ مجھے بھیجا تھا ۔ 
    ٤ — السنن الصغرى كي تحقیق
    ٥ –  معجم مصطلحات الحدیث 
    ٦ – دراسات في الجرح والتعديل 
    ٧ – الجامع الصحيح الكامل 
     اس میں انہون نے تمام صحیح احادیث کو جمع کردیا ہے . ١٨ جلدوں  پر مشتمل صحیح احادیث کا یہ ذخیرہ جس میں   

    ١٦ ہزار  ٨٠٠  صحیح آحادیث  ہيں ۔ انہوں نے پانچویں صدی ہجری تک کی تمام احادیث کی کتابوں کا جو ١٧٠ مصادر پر مشتمل تھیں  بڑی محنت سے مطالعہ کرکے تخريج كے ساتھ جمع کردیا ۔ 
    یہ کام علم حدیث کی تاریخ میں پہلی بار کیا گیا ہے ۔ یہ ان کی علمی زندگی کا سب سے اہم کارنامہ ہے ۔ ٢٠١٤ میں دارالسلام ریاض سے شائع ہوا ۔ 
    ٨ – یہودیت و نصرانیت
    ٩ ۔ ادیان و فرق کے ماہر تھے ۔ ہندستان کے مخلتف مذاہب پر آپ کی متعدد کتابیں ہیں ۔  
     ١٠ – نسائیکلوپیڈیا آف قرآن( اردو ، ہندی)

    ٣٠ جولائی  ٢٠٢٠ يوم عرفہ کے دن ظهر كے وقت یہ جانکاہ  خبر ملی کہ علم حدیث کے اس نو مسلم خادم نے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کرکے اپنے چاہنے والوں کو داغ مفارقت دے گیا ۔ آنا للہ وانا الیہ راجعون ۔ 

    ان کی وفات سے پوری علمی دنیا کو بہت بڑا   نقصان پہنچا ہے ۔ ہم بارگاہ خداوندی مین دعاگو ہیں کہ ان کی بال بال مغفرت فرمائے اور انہین جنہ الفردوس مین جگہ عطا فرمائے ۔ آپ بہت ہی متواضع ، عمدہ اخلاق اور ملنسار انسان تھے ۔  بہت سی خوبیاں تھیں ان میں ۔    
     خدا رحمت کند ایں عاشقانہ پاک طینت را

    حالیہ دنوں میں متعدد بڑی علمی اور دینی شخصیتیں ہمارے درمیان سے اٹھ گئیں ۔ یقینا یہ امہ مسلمہ کا بہت بڑا خسارہ ہے  اللہ تعالی امہ مسلمہ کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے اور علوم اسلامیہ کی اعداء اسلام سے حفاظت فرمائے ۔ آمین

    DR.MOHAMMAD LAEEQUE NADVI
    Ph.D. (Arabic Lit.) M.A. Arabic Lit.+Islamic Studies)
                            Directorr                        
    Amena Institute of Islamic Studies & Analysis
    A Global & Universal Institute,          
    [email protected] 

    Thanks

  4. ڈاکٹر ضیاء الرحمن کی تحقیق
    امام بییقی کی ' المدخل إلى كتاب السنن '
    ميں میرا حصہ
    مدینہ یونیورسیٹی بنام ایشیاٹک سوسائٹی

    دوسری قسط

    اس مخطوطہ کے متعلق ایشیاٹک سوسائٹی کے کٹیلاگ میں درج ذیل معلومات ہیں :
    ابوبکر احمد بن الحسین بن علی بن عبد اللہ بن موسی البیہقی ٣٨٤ ھ بمطابق ٩٩٤ م میں پیدا ہوئے تھے اور ١٠ جمادى الأولى ٤٥٨ ھ بمطابق ٩ اپریل ١٠٦٦ میں ان وفات ہوئ ۔
    ان کا ذکر اس میں صیغہ غائب میں کیاگیا ہے اس لیے ہوسکتا ہے کہ اس کتاب کو مرتب کرنے والا ان کا کوئ شاگرد ہو جس نے اسے مرتب کرکے اس پر حواشی لکھا ہو ۔
    حاجی خلیفہ نے اس کا حوالہ ١١٦٩٧ نمبر كے ذیل میں دیا ہے ۔ کتاب کی تقسیم مختلف ابواب میں کی گئی ہے ۔ موجودہ نسخہ کا پہلا باب جس کے شروع کے کئی اوراق گم ہوگئے ہین صفحہ ٢ پر ملتا ہے ۔
    باب الحدیث الذ ى لم یرو خلافہ عن رسول اللہ ۔ أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد الخ
    باب اقاويل الصحابة رضى الله عنهم إذا تفرقوا فيها و ما يستدل به على معرفة الصحابة و التابعين و من بعدهم من أكابر الفقهاء الأمصار ص ٣ باب ما يخشى من زلة العالم فى العلم و العمل ص ٥٥ (F.55 V) باب ما يخشى من رفع العلم و ظهور الجهل ص ٥٦ (F 56 V)
    مورخہ ١٨ جمادى الأخرى ٦٣٥ ھ بمطابق ٥ فرورى ١٢٣٨ م ( غیر واضح )
    آخر میں مخلتف حواشی مختلف ہاتھ کی لکھائی میں ہے جن میں اس کتاب کی تکمیل کے بارے میں مختلف تاریخوں کا ذکر کیا گیا ہے ۔ ٦٣٥ ھ بمطابق ١٢٣٨ م ،٦٧٧ ھ بمطابق ١٢٧٨ م ٦٨٧ ھ بمطابق بمطاق ١٢٨٨ م وغيره كتاب ٥٧ صفحات پر مشتمل ہے
    9,75×6;75 7,25×5 , 1125
    کوئی جدول نہیں پرانا زرد رنگ ، خستہ کاغذ ، ضخامت 10=1. 72mm خط فارسی ،انڈکس ; 3 : =a = 3 b k =4 n mm اچھی حالت میں ، کرم خوردہ اور شفاف کاغذ چسپاں ۔
    مولانا معصومی مرحوم کے یہاں میں اس سلسلےمیں گیا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس مخطوطہ پر کام کرچکے ہیں ۔ معارف مار چ ، اپریل ١٩٠٣ کے شماروں میں ' بیہقی کی ایک لطیف تصنیف ' کے عنوان سے ان کے مضامین شائع ہوچکے ہیں ۔ انہوں نے کہا تھا کہ انہیں اس کے کسی دوسرے نسخے کا علم نہیں ۔
    جاری

    DR.MOHAMMAD LAEEQUE NADVI
    Ph.D. (Arabic Lit.) M.A. Arabic Lit.+Islamic Studies)
    Directorr
    Amena Institute of Islamic Studies
    & Analysis
    A Global & Universal Institute,

    Donate to promote this Institute
    SBI A/C30029616117
    Kolkata,Park Circus Branch
    [email protected]gmail.com

    Thanks

  5. "

    ڈاکٹر ضیاء الرحمن کی تحقیق
    امام بییقی کی ' المدخل إلى كتاب السنن '
    ميں میرا حصہ

    " آج میں آپ کو ایک خاص کام کی تکلیف دے رہا ہوں ۔ حسن اتفاق سے آپ کلکتہ میں موجود ہیں ۔ ڈاکٹر ضیاء امام بیہقی کی کتاب " المدخل إلى كتاب السنن " کی تحقیق کر رہے ہیں اور یہ مخطوطہ ایشیاٹک سوسائٹی سے تصویر کرکے یہاں آیا ہوا ہے ۔
    اس کے حواشی پڑھنے مین نہین ارہے ہین آپ اصل مخطوطہ سے اس کے تمام حواشی نقل کرکے ہمیں ارسال کردیں ۔ زیادہ نہیں صرف ٥٩ ورق کی کتاب ہے اور حاشیہ بہت کم ہے ۔ ایک دو دن میں کام پورا ہو جائے گا ۔
    آپ مخطوطہ کے ورق نمبر اور لوحہ نمبر کے حوالے سے حواشی دقت سے پڑھ کر نوٹ کرلیں بلکہ بڑے سائز پر مخطوطہ کا فوٹو حاصل ہوسکے تو لے کر بھیج دیں ۔ اس لیے کہ کہیں کہیں ( نیچے کی سطرین) غیر مقروء ہیں ۔ ہاں اگر انلارج کرکے فوٹو ہوسکے تو ہر صفحہ میں بعض غیر مقروء سطروں کو بھی صاف صاف لکھ کر بھیج دیں خاص کر آخری صفحہ پر جو حاشیہ ہے وہ تحقیق کے لیے بہت ہی اہم ہے اس میں اہم ترین معلومات ہیں جو بالکل غیر مقروء ہیں ۔ انہیں اصل کتاب سے پڑھ کر لکھ لیں ۔ کٹلاگ کے کارڈ پر جو معلومات ہیں وہ لکھین ۔ خاص طور پر کتاب کے حاشیہ اور سنہ نسخ کے متعلق اور اس کام میں جتنا وقت اور پیسہ خرچ ہو سب کی تفصیل لکھیں ایشیاٹک سوسائٹی کلکتہ میں مخطوطہ کا نمبر ٣١٨ ہے " ۔
    بنام محمد لئیق ندوی

    والسلام
    خیر خواہ
    احمد مجتبی سلفی
    خط ملنے کے بعد میں نے ایشیاٹک سوسائٹی جاکر اس مخطوطہ کو دیکھا تو کام سخت اور مشکل نظر آیا ۔ مولانا ابو المحفوظ عبد الکریم معصومی مرحوم کے گھر گیا اور ان سے اس سلسلے میں ذکر کیا ۔ انہوں نے معذرت کی اور کہا کہ وہ مولانا ابو الحسن ندوی مرحوم کے حکم سے ندوہ کے توسیعی خطبات کے جلسہ کے لیے مقالہ لکھنے میں مشغول ہیں ۔ بہرحال میں نے اس پر ایشیاٹک سوسائٹی میں کام شروع کردیا ۔ اس زمانے میں مولانا عبد الخلاق ندوی اسسٹنٹ لائبریرین تھے شروع سے آخر تک ان کا تعاون حاصل رہا
    ١٦ دنوں کی سخت محنت کے بعد ٥١ اوراق پر لکھے ہوئے حواشی اور ہر صفحہ پر غیر واضح سطروں اور کرم خوردہ الفاظ کو پڑھ سکا ۔ آخری ورق جو نہایت مشکل اور دقت طلب کام تھا اس کی ایک واضح فوٹو کاپی لے کر بھیج دیا ۔ میں مولانا عبد الخلاق ندوی مرحوم کا بے حد شکر گزار ہوا کہ ان کے تعاون سے آسانی سے اس مخطوطہ تک رسائی ہوسکی ۔ انہوں نے اپنی ذمه داری پر مخطوطہ مجھے دیدیا تاکہ باہر سے زیروکس نکلوا سکوں ۔ اس طرح یہ کام مکمل کرکے بھیج دیا ۔

    اللہ جل شانہ کا شکر ہے کہ اس نے اس عاجز سے یہ کام لیا اور اپنے عزیز ساتھی احمد مجتبی مدنی کا بھی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے اس کام کے کرنے کا موقع دیا ۔
    جاری

    DR.MOHAMMAD LAEEQUE NADVI
    Ph.D. (Arabic Lit.) M.A. Arabic Lit.+Islamic Studies)
    Directorr
    Amena Institute of Islamic Studies
    & Analysis
    A Global & Universal Institute,

    Donate to promote this Institute
    SBI A/C30029616117
    Kolkata,Park Circus Branch
    [email protected]gmail.com

    Thanks

اپنا تبصرہ بھیجیں